30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فلہ جرأتی وجودی۔الطبرانی [1]فی الکیبر وابن مندہ و ابن عساکر عن البتول الزھراء رضی الله عنہا۔ |
اورحسین کے لیے میری جرأت اورمیراکرم(طبرانی نے کبیر میں اورابن مندہ اورابن عساکر نے بتول الزہرا رضی الله تعالٰی عنہا سے روایت کیا۔ت) |
اقول:وبالله التوفیق حلم ومحبت وجود وشجاعت ورضا ومحبت کچھ اشیائے محسوسہ واجسام ظاہرہ تو نہیں کہ ہاتھ میں اٹھا کر دے دیے جائیں اوربتول زہر ا کاسوال بصیغہ عرض ودرخواست تھا کہ حضور انھیں کچھ عطافرمائیں جسے عرف نحاۃ میں صیغہ امر کہتے ہیں اور وہ زمان استقبال کے لیے خاص کہ جب تك یہ صیغہ زبان سے اداہوگا زمانہ حال منقضی ہوجائے گا اس کے بعد قبول و وقوع جو کچھ ہوگا زمانہ تکلم سے زمانہ مستقبل میں آئے گا اگرچہ بحالت فورواتصال اسے عرفاً زمانہ حال کہیں بہرحال درخواست وقبول کوزمانہ ماضی سے اصلاً تعلق نہیں،اب حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے کیا فرمایا نعم ہاں دوں گا۔ لاجرم یہ قبول زمانہ استقبال کا وعدہ ہوا فان السؤال معاد فی الجواب ای نعم انحلھما اس کے متصل ہی حضور فرماتے ہیں صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کہ میں نے اپنے اس شاہزادے کو یہ نعمتیں دیں اوراس شہزادے کو یہ دولتیں بخشیں۔یہ صیغے بظاہر ماضی کے ہیں اوراس سے زمان وعدہ تھا اور زمان وعدہ عطا نہیں کہ وعدہ عطا پر مقدم ہوتاہے۔لاجرم یہ صیغے اخبار کے نہیں بَلکہ انشا ہیں جس طرح بائع ومشتری کہتے ہیں بعت اشتریت میں نے بیچی میں نے خریدی۔یہ صیغے کسی گزشتہ خریدوفروخت کی خبر دینے کے نہیں ہوتے بَلکہ انہیں سے بیع وشر ا پیداہوتی ہے انشاکی جاتی ہے یعنی حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اس فرمانے ہی میں کہ میں نے اسے یہ دیا اسے یہ دیا حلم وہیبت وجود وشجاعت ورضا ومحبت کی دولتیں شاہزادوں کو بخش دیں یہ نعمتیں خاص خزائن ملك السمٰوات والارض جل جلالہ کی ہیں۔
[1] تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۵۵۹حسین بن علی رضی الله عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۴/۱۴۰،المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۲/۴۲۳،کنزالعمال بحوالہ ابن مندہ کر حدیث ۱۸۸۳۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷/۲۶۸،کنزالعمال بحوالہ طب وابن مندہ کر حدیث ۳۴۲۷۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/۱۱۷،کنز العمال بحوالہ ابن مندہ طب،ابی نعیم،کر حدیث ۳۷۷۰۹مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۶۷۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع