30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
(یانبی الله لو لا امتعتنابہ)ابقیتہ لنا لنتمتع بہ[1]۔ |
نام لے کر دعائے مغفرت فرماتے تھے وہ شہید ہوجاتاتھا (لہذا) حاضرین میں سے ایك صاحب یعنی امیرالمومنین عمر رضی الله تعالٰی عنہ جیساکہ صحیح مسلم میں تصریح ہے عرض کی:یارسول ! حضور کی دعاسے عامر کےلئے شہادت واجب ہو گئی حضور نے ہمیں ان سے نفع کیوں نہ لینے دیا یعنی حضور انہیں ابھی زندہ رکھتے کہ ہم ان سے بہر ہ مند ہوتے۔انتہٰی۔ |
یہ پچھلے لفظ بھی یاد رکھنے کے قابل ہیں کہ ''حضور انہیں زندہ رکھتے''۔صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔یہ حدیث ابن اسحٰق نے اس سند سے روایت کی:
|
حدثنی محمد بن ابراھیم بن الحارث عن ابی الھیشم بن نصر بن دھرن الاسلمی ان اباہ حدثہ انہ سمع رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یقول فی مسیرہ الی خیبر لعامر بن الاکوع فذکرہ [2]۔ |
بیان کیا مجھ سے محمد بن ابراہیم بن الحارث نے انہوں نے ابی الہیشم بن نصر بن دہراسلمی سے کہ انکے والد نے سفر خیبر میں رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو عامر بن اکوع کو یہ فرماتے ہوئے سناتو اس کا ذکر کردیا۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
فقال عمر بن الخطّاب رضی الله تعالٰی عنہ وجبت والله یارسول الله لوامتعتنا بہٖ،فقتل یوم خیبر شہیدًا[3]۔ |
امیر المومنین عمر بن خطاب رضی الله تعالٰی عنہ نے عرض کی خدا کی قسم شہادت واجب ہوگئی،یا رسول الله !کاش حضور ہمیں ان کی زندگی سے بہرہ یاب رکھتے۔وہ روز خیبر شہید ہوئے رضی الله تعالٰی عنہ۔ |
نیز امام ا حمد نے مسند میں بطریق ابن اسحٰق روایت فرمائی:
|
حدثنا یعقوب ثنا ابی عن ابن اسحٰق ثنا محمد بن ابراھیم بن الحارث التیمی الحدیث [4]سندًا و متنًا بید انہ اقتصر |
ہمیں حدیث بیان کی یعقوب نے کہ ہمیں میرے باپ نے بحوالہ ابن اسحاق حدیث بیان کی کہ ہمیں محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی نے سند ومتن مذکور کے ساتھ |
[1] ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب المغازی حدیث ۴۱۹۶دارالکتب العلمیۃ بیروت ۹/ ۲۱۴تا۲۱۶
[2] السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ذکر المسیرالٰی خیبر دارابن کثیر بیروت الجزئین الثالث والرابع ص ۳۲۸و۳۲۹
[3] السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ذکر المسیرالٰی خیبر دارابن کثیر بیروت الجزئین الثالث والرابع ص۳۲۹
[4] مسند احمد بن حنبل حدیث نصر بن دھر رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۳۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع