30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہم حدیث صحیح بخاری مع شرح امام احمد قسطلانی مسمّٰی بہ ارشاد الساری کے الفاظ کریمہ مختصر ذکر کریں:
|
(عن یزید بن ابی عبید عن سلمۃ بن الاکوع رضی الله تعالٰی عنہ قال خرجنا مع النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الی خیبر فسرنا لیلًا فقال رجل من القوم)ھو اسید بن حضیر رضی ا لله تعالٰی عنہ(لعامر یاعامر الاتسمعنا من ھنیہاتک)وعند ابن اسحٰق من حدیث نصربن دھر ن الاسلمی رضی الله تعالٰی عنہ انہ سمع رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یقول فی مسیرہٖ الی خیبر لعامر بن الاکوع رضی الله تعالٰی عنہ انزل یاابن الاکوع فاحد لنا من ھنیھا تك ففیہ انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ھو الذی امرہ بذٰلك وکان عامر رضی الله تعالٰی عنہ رجلا شاعرًا فنزل یحدوبالقوم یقول ؎ اللھم لو لا انت ماأھتدینا ولاتصدقنا ولاصلینا فاغفر فداء لك،المخاطب بذٰلك النبی صلی الله تعالٰی |
یعنی یزید
بن ابو عبید اپنے مولٰی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کرتے
ہیں کہ ہم حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے ہمراہ رکاب اقدس خیبر
کوچلے،رات کا سفر تھا،حاضرین سے ایك صاحب حضرت اسید بن حضیر رضی الله تعالٰی عنہ
نے سلمہ بن اکوع رضی الله تعالٰی عنہ کے چچاحضرت عامر بن اکوع رضی الله تعالٰی
عنہ سے کہا:اے عامر !ہمیں کچھ اشعار اپنے نہیں سناتے،اورابن اسحق نے نصر بن دہر اسلمی
رضی الله تعالٰی عنہ سے یوں روایت کیاکہ میں نے سفر خیبر میں رسول الله صلی الله
تعالٰی علیہ وسلم کو عامر بن اکوع رضی الله تعالٰی عنہ سے فرماتے سنا ''اے ابن
اکوع !''اترکر کچھ اپنے اشعار ہمارے لئے شروع کرو۔اس روایت سے معلوم ہوا کہ خود
حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں اس امر کا امر فرمایا۔عامر رضی
الله تعالٰی عنہ شاعر تھے اترے اورقوم کے سامنے یوں حد ی خوانی کرتے چلے کہ: یارب
!اگر حضور نہ ہوتے ہم
راہ نہ پاتے نہ زکوٰۃ ونماز بجالاتے۔ |
ف:قربان ہونے والا،دوسرے کی بلااپنے اوپر لینے والا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع