30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماکان فی یدہٖ وخلٰی عن العبد فقال النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اما والله انہ احق ان یعاذ من استعاذ بہ منی فقال الرجل یارسول الله فھو حر لوجہ الله [1]۔ |
صاحب نے کوڑا ہاتھ سے ڈال دیا اورغلام کو چھوڑدیا۔حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:سنتا ہے خدا کی قسم بیشك الله عزوجل مجھ سے زیادہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی دُہائی دینے والے کو پناہ دی جائے۔ان صاحب نے عرض کی:یا رسول الہ !تو وہ الله کے لیے آزاد ہے۔ |
اقول:الحمد لله اس حدیث نے تو اوربھی پانی سر سے تیرکردیا،صاف تصریح فرمادی کہ حضو ر اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے غلام کی دونوں دُہائیاں بھی سنیں اورپہلی دہائی پر ان کا نہ رکنا اوردوسری پرفورا باز رہنا بھی ملاحظہ فرمایا مگر افسوس کہ وہابیت کی ذلت ومردودیت کو نہ تو حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اس غلام سے فرماتے یہں کہ تو مشرك ہوگیا الله کے سو امیری دہائی دیتاہے اوروہ بھی کس طرح کہ الله عزوجل کی دہائی چھوڑ کر نہ آقا سے ارشاد کرتے ہیں کہ یہ کیسا شرك اکبر،خدا کی دہائی کی وہ بے پرواہی اورمیری دہائی پر یہ نظر،ایك تو میری دہائی ماننی اور وہ بھی یوں کہ خدا کی دہائی نہ مان کر افسوس آقا وغلام کو مشرك بنانا درکنار خود جو اس پرنصیحت فرماتے ہیں وہ کس مزے کی بات ہے کہ الله مجھ سے زیادہ اس کا مستحق ہے،دہائی تو اپنی بھی قائم رکھی اوراپنی دہائی دینے پرنہ دینی بھی ثابت رکھی،صرف اتنا ارشاد ہوا کہ خدا کی دہائی زیادہ ماننے کے قابل تھی۔الحمدلله کہ الله کے سچے رسول صلی ا لله تعالٰی علیہ وسلم نے دینوہابیہ کے جھوٹے قرآن تقویۃ الایمان کی کچھ قدر نہ فرمائی اسے سخت ذلت پہنچائی جس میں اس کا امام لکھتاہے:
"اول معنی شرك وتوحید کے سمجھنا چاہیے اکثر لوگ پیروں پیغمبروں کو مشکل کے وقت پکارتے ہیں،ان سےمادیں مانگتے ہیں، کوئی اپنے بیٹے کا نام عبدالنبی رکھتاہے کوئی علی بخش کوئی غلا م محی الدین،کوئی مشکل کے وقت کسی کی دہائی دیتاہے،غرض کہ جو کچھ ہندو اپنے بتوں سے کرتے ہیں وہ سب کچھ یہ جھوٹے مسلمان اولیاء و انبیاء سے کر گزرتے ہیں اوردعویٰ مسلمانی کا کئے جاتے ہیں۔سچ فرمایا الله صاحب نے
[1] الدرالمنثور بحوالہ عبدالرزاق عن الحسن تحت الآیۃ ۴ /۳۶ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۰۲،کنز العمال بحوالہ عب عن الحسن حدیث ۲۵۶۷۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۲۰۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع