30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فجعل یضربہ فقال اعوذبرسول الله ،فترکہ فقال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم والله اقدرعلیك منك علیہ قال فاعتقہ [1]۔ |
انہوں نے ہاتھ نہ روکا۔غلام نے کہا:رسول الله کی دہائی۔فورًا چھوڑدیا۔حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: خدا کی قسم ! بے شك الله تجھ پر اس سے زیادہ قادرہے جتنا تو اس غلام پر۔انہوں نے غلام کو آزاد کردیا۔ |
الحمدلله ! اس حدیث صحیح کے تیور دیکھئے،حیا ہو تو وہابیت کو ڈوب مرنے کی بھی جگہ نہیں،یہ حدیث تو خدا جانے بیماردلوں پر کیا کیا قیامتیں توڑے گی۔رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی دُہائی دینا ہی ان کے دہائی مچانے کو بہت تھی نہ کہ وہ بھی یوں کہ سیدنا ابو مسعود بدری رضی الله تعالٰی عنہ خود فرماتے ہیں وہ الله عزوجل کی دہائی دیتارہا میں نے نہ چھوڑا جب نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی دہائی دی فورًا چھوڑ دیا۔
علماء فرماتے ہیں نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی دہائی سن کرحضور کی عظمت دل پرچھائی ہاتھ روك لیا۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)یعنی پہلی بات ایك معمول ہوجانے سے ایسی موثر نہ ہوئی،انسان کا قاعدہ ہے کہ جس بات کا محاورہ کم ہوتاہے اس کا اثر زیادہ پڑتا ہے ورنہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی عظمت الله عزوجل کی عظمت سے ناشی ہے۔بحمدالله حدیث کے یہ معنی ہیں اگرچہ وہابیہ کے طور پر تو اس کا درجہ شرك سے بھی کچھ آگے بڑھا ہواہے۔
حدیث ۸۹:یہی مضمون عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں امام حسن بصری رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کیا:
|
قال بینا رجل یضرب غلامالہ،وھو یقول اعوذبالله اذ بصر برسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فقال اعوذ برسول الله فالقٰی |
یعنی ایك صاحب اپنے غلام کو مار رہے تھے اوروہ کہہ رہا تھاکہ الله کی دُہائی۔اتنے میں غلام نے حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو تشریف لاتے دیکھا اب کہا رسول الله کی دہائی۔ فورًا اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع