30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث ۸۴:کہ فرماتے ہیں صلی الله تعالٰی علیہ وسلم:
|
عادی الارض من الله ورسولہ ھو فیھا عن طاؤس [1] مرسلا۔ |
قدیم زمینیں الله ورسول کی ملك ہیں۔اسی میں طاؤس سے مرسلًا مروی ہے۔(ت) |
اقول:بن،جنگل،پہاڑوں اور شہرو ں کی ملك افتادہ زمینوں کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ ان پر ظاہری ملك بھی کسی کی نہیں یہ ہر طرح خالص ملك خدا ورسول ہیں جل جلالہ وصلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔ورنہ محلوں،احاطوں،گھروں،مکانوں کی زمینیں بھی سب الله ورسول کی ملك ہیں اگرچہ ظاہری نام من وتو کا لگا ہوا ہے۔زبور شریف سے رب العزت کا نام سن ہی چکے کہ احمد مالك ہوا ساری زمین اور تمام امتوں کی گردنوں کا[2]،صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔تو یہ تخصیص مکانی ایسی ہے جیسے آیہ کریمہ " وَ الْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلہِ ﴿٪۱۹﴾"[3] میں تخصیص زمانی کہ حکم اس دن الله کے لئے ہے،حالانکہ ہمیشہ الله ہی کا ہے۔مگر وہ دن روز ظہور حقیقت وانقطاع ادعا ہے۔لا جرم صحیح بخاری شریف کی حدیث نے ساری زمین بلا تخصیص الله ورسول کی ملك بتائی وہ کہاں ؟ وہ اس حدیث آئندہ میں:
حدیث ۸۵:فرماتے ہیں صلی الله تعالٰی علیہ وسلم:
|
اعلمو ا ان الارض لله ولرسولہ البخاری [4]فی الجہاد من الجامع الصحیح باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ۔ |
یقین جان لو کہ زمین کے مالك الله ورسول ہیں جل وعلا وصلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔امام بخاری نے الجامع الصحیح میں کتاب الجہاد باب یہود کا جزیر ۃ العرب سے اخراج میں حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت) |
حدیث ۸۶:اعشی مازنی رضی الله تعالٰی عنہ خدمت اقدس مں اپنے بعض اقارب کی ایك
[1] السنن الکبری للبیہقی کتاب احیاء الموات باب لا یترك ذمی یحییہ الخ دار صادر بیروت ۶ /۱۴۳
[2] تحفہ اثنا عشریہ باب ششم در بحث نبوت وایمان انبیاء سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۹
[3] القران الکریم ۸۲ /۱۹
[4] صحیح البخاری کتاب الجہاد باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۹،صحیح مسلم باب اجلاء الیہود من جزیرۃ العرب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع