30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال فلما سمع النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ھذا الشعر قال ماکان لی ولبنی عبدالمطلب فھو لکم و قالت قریش ماکان لنا فھولله ولرسولہ وقالت الانصار ماکان لنا فھو لله ورسولہٖ۔الطبرانی فی ثلاثیات معجمہ الصغیر حدثنا عبید الله ابن رما حس القیسیّ برمادۃ الرمالۃ سنۃ اربع وسبعین ومائتین ثنا ابو عمرو زیاد بن طارق وکان قد اتت علیہ عشرون ومائۃ سنۃ قال سمعت ابا جَروَلٍ زھیر بن صردن الجشمی [1] یقول فذکرہ۔ |
یہ اشعار سن کر سید ارحم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میرے اوربنی عبدالمطلب کے حصے میں آیاوہ میں نے تمہیں بخش دیا۔قریش نے عرض کی جو کچھ ہمارا ہے وہ سب الله کا ہے اوراس کے رسول کا ہے۔انصار نے عرض کی جو کچھ ہمارا ہے وہ سب الله کا ہے اوراس کے رسول کا ہے جل جلالہ و صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔طبرانی نے معجم صغیر کی ثلاثیات میں کہا کہ ہمیں ۲۷۴ھ میں رمادہ رملہ پر عبید الله بن رماحس قیسی نے حدیث بیان کی،وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو عمرو زیاد بن طارق نے جن کی عمر ۱۲۰سال ہوئی انہوں نے کہا کہ میں نے ابو جرول زہیر بن صُرد جشمی کو کہتے ہوئے سنا،پھر انہوں نے اس کو ذکر کیا۔(ت) |
حدیث ۸۰:کہ اسود بن مسعود ثقفی رضی الله تعالٰی عنہ نے حضور پرنور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی: ؎
انت الرسول الذی ترجیٰ فواضلُہ عندالقحوط اذا ما اخطاء المطرُ
حضور وہ رسول ہیں کہ حضور کے فضل کی امید کی جاتی ہے قحط کے وقت جب مینہ خطاکرے
|
عمر بن شیبۃ من طریق عامرن الشعبی ذکرہ الحافظ فی الاصابۃ وقال ذکرہ ابن فتحون فی الذیل[2]۔ |
(عمر بن شیبہ نے بطریق عامر الشعبی سے روایت کیا،حافظ نے الاصابہ میں اس کا ذکر کیا اورفرمایا اس کا ذکر ابن فتحون نے ذیل میں کیا۔ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع