30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نسیم میں عبارت نہایہ:
|
ان علیًّارضی الله تعالٰی عنہ قال انا قسیم النار۔ |
حضرت علی رضی الله تعالٰی عنہ نے فرمایا:میں قسیم دوزخ ہوں۔(ت) |
ذکر کر کے فرمایا:
|
ابن الاثیر ثقۃ وما ذکرہ علی لایقال من قبل الرای فھو فی حکم المرفوع اذ لا مجال فیہ للاجتھاد [1]اھ اقول:کلام النسیم انہ لم یرہ مرویّا عن علی فاحال علی وثاقۃ ابن الاثیر وقد ذکرنا تخریجہ ولله الحمد۔ |
ابن اثیر ثقہ ہے اورجو کچھ حضرت علی مرتضیٰ رضی الله تعالٰی عنہ نے ذکر فرمایا وہ اپنے رائے سے نہیں کہا جاسکتا ہے،لہذا وہ مرفوع کے حکم میں ہوگا کیونکہ اس میں اجتہاد کی مجال نہیں اھ۔میں کہتا ہوں نسیم کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کو حضرت علی سے مروی نہیں جانتے چنانچہ انہوں نے اسے ابن اثیر کے ثقہ ہونے کی طرف پھیر دیا ہے اورہم نے اس کی تخریج کردی ہے۔ولله الحمد۔(ت) |
مدارج شریف میں ہے:
|
آمدہ است کہ ایستادہ میکنداو را پروردگار وے یمین عرش ودر روایتے برعرش ودرروایتے برکرسی ومے سپاردبوے کلید جنت[2]۔ |
مروی ہے کہ الله تعالٰی آپ کو عرش کی دائیں جانب کھڑا کرے گا۔ایك روایت میں ہے کہ عرش کے اوپر،اورایك روایت میں ہے کہ کرسی پر کھڑا کریگا اورجنت کی چابی آپ کے سپرد فرمائے گا۔(ت) |
ملاجی !ذرا انصاف کی کنجی سے دیدہ عقل کے کواڑ کھول کر یہ کنجیاں دیکھئے جو مالك الملك شہنشاہ قدیر جل جلالہ نے اپنے نائب اکبر خلیفہ اعظم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو عطافرمائی ہیں خزانوں کی کنجیاں،زمین کی کنجیاں،دنیا کی کنجیاں،جنت کی کنجیاں،نار کی کنجیاں۔اور اب اپنا وہ بلائے جان اقرار یاد کیجئے ''جس کے ہاتھ کنجی ہوتی ہے قفل اسی کے اختیار میں ہوتا ہے جب چاہے کھولے جب چاہے نہ کھولے ''[3]۔دیکھ حجت الٰہی یوں قائم ہوتی ہے۔والحمدلله رب العالمین۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع