30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الزلال الانقٰی من بحر سبقۃ الاتقٰی۔ |
من بحر سبقۃ الاتقٰی ''میں بیان کردی ہے۔(ت) |
اب آیہ کریمہ کے دوسرے معنی لیجئے،تفسیر بیضاوی شریف میں ہے:
|
اوصفات النفوس الفاضلۃ حال المفارقۃ فانھا تنزع عن الابدان غرقا ای نزعاشدیدامن اغراق النازع فی القوس وتنشط الی عالم الملکوت وتسبح فیہ فتسبق الی حظائر القدس فتصیر لشرفھا وقوتھا من المدبرات[1]۔ |
یعنی یا ان آیات کریمہ میں الله عزوجل ارواح اولیاء کرام کا ذکر فرماتاہے جب وہ اپنے پاك مبارك بدنوں سے انتقال فرماتی ہیں کہ جسم سے بقوت تمام جدا ہوکر عالم بالا کی طرف سبك خرامی اور دریائے ملکوت میں شناوری کرتی حظیر ہائے حضرت قدس تك جلد رسائی پاتی ہیں پس اپنی بزرگی وطاقت کے باعث کاروبارعالم کے تدبیر کرنے والوں سے ہوجاتی ہیں۔ |
اب توبحمدالله تعالٰی اولیائے کرام بعد وصال عالم میں تصرف کرتے اور اس کے کاموں کی تدبیر فرماتے ہیں فللّٰہ الحجۃ البالغۃ۔
علامہ احمد بن محمد شہاب خفاجی عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی میں امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی وامام فخررازی رحمۃ الله علیہ سے اس معنی کی تائید میں نقل فرماتے ہیں:
|
ولذا قیل اذا تحیرتم فی الامور فاستعینوا من اصحاب القبور الا انہ لیس بحدیث کما توھّم ولذا اتفق الناس علی زیارۃ مشاھد السلف والتوسل بھم الی الله وان انکرہ بعض الملاحدۃ فی عصرنا و المشتکٰی الیہ ھو الله [2]۔ لاحول ولا قوۃ الابالله العلی العظیم۔ |
یعنی اس لئے کہا گیا کہ جب تم کاموں میں متحیر ہوتومزارات اولیاء سے مددمانگو۔مگر یہ حدیث نہیں ہے جیسا کہ بعض کو وہم ہوا۔اوراسی لئے مزارات سلف صالحین کی زیارت اور انہیں الله عزوجل کی طرف وسیلہ بنانے پر مسلمانوں کا اتفاق ہے اگرچہ ہمارے زمانے میں بعض ملحد بے دین لوگ اس کے منکر ہوئے اورخدا ہی کی طرف ان کے فساد کی فریاد ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع