30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ فتح مکہ سے پہلے کا ذکر ہے جب حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عمرے کے لئے مکہ معظمہ تشریف لائے ہیں اورکافروں نے مقام حدیبیہ میں روکا شہر میں نہ جانے دیاصلح پر فیصلہ ہوا ظاہر کی نظر میں اسلام کے لیے ایك دبتی ہوئی بات تھی اورحقیقت میں ایك بڑی فتح نمایاں تھی جسے الله عزوجل نے " اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیۡنًا ۙ﴿۱﴾"[1]۔(بےشك ہم نے تمہارے لئے روشن فتح فرما دی۔ ت)فرمایا الله تعالٰی نے مسلمانوں کی تسکین کو یہ آیت نازل فرمائی کہ اس سال تمہیں داخل مکہ نہ ہونے دینے میں کئی حکمتیں تھیں مکمہ معظمہ میں بہت مردوعورت مغلوبی کے سبب خفیہ مسلمان ہیں جن کی تمہیں خبر نہیں تم قہرًا جاتے تو وہ بھی تیغ وبند کے روندنے میں آجاتے اوران کے سوا بھی وہ لوگ ہیں جو ہنوزکافر ہیں اورعنقریب الله تعالٰی انہیں اپنی رحمت میں لے گا اسلام دے گا ان کا قتل منظور نہیں ان وجوہ سے کفار مکہ پر سے عذاب قتل وقہر موقوف رکھاگیا یہ سب لوگ الگ ہوجاتے تو ہم ان کافروں پر عذاب فرماتے۔کیسا صریح روشن نص ہے کہ اہل اسلام کے سبب کافروں پر سے بھی بلادفع ہوتی ہے ولله الحمد۔
فصل دوم احادیث عظیمہ میں
حدیث ۱:کہ رب العزت جل وعلافرماتاہے:
|
انی لاھم باھل الارض عذابا فاذا نظرت الی عماربیوتی والمتحابین فیّ والمستغفرین بالاسحارصرفت عنھم۔البھیقی فی الشعب عن انس بن مالك رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قال ان الله تعالٰی یقول الحدیث[2]۔ |
میں زمین والوں پر عذاب اتارنا چاہتاہوں جب میرے گھر آباد کرنے والے اورمیرے لئے باہم محبت رکھنے والے اورپچھلی رات کو استغفار کرنے والے دیکھتاہوں اپنا غضب ان سے پھیر دیتاہوں۔(بیہقی نے شعب الایمان میں انس بن مالك رضی الله تعالٰی عنہ سے انہوں نے حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے کہ فرمایا الله تعالٰی یہ حدیث بیان فرماتاہے۔ ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع