30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بالجملہ اس احتمال کو یہاں راہ ہی نہیں بَلکہ انہیں دو سے ایك مراد بالیقین یعنی اسناد غیر ذاتی کسی قسم کی ہو اب جو اسے شرك کہا جاتاہے تو اس کی دو ہی صورتیں متصور بنظر مصداق عــــــہ نسبت یا بنفس حکایت۔
اول یہ کہ غیر خدا کے لیے ایسا اتصاف ماننا ہی مطلقا شرك اگرچہ مجازی ہو،جس کا حاصل اس مسئلہ میں یہ کہ حضور دافع البلاء صلی الله تعالٰی علیہ وسلم دفع بلا کے سبب ووسیلہ وواسطہ بھی نہیں کہ مصداق نسبت کسی طرح متحقق جو غیر خدا کو ایسے امور میں سبب ہی مانے وہ بھی مشرک۔
دوم یہ کہ ایسی نسبت وحکایت خاص بذاتہ حدیت جل وعلا ہے غیر کے لئے مطلقا شرك اگرچہ اسناد غیر ذاتی مانے،آدمی اگر عقل وہوش سے کچھ بہرا رکھتا ہو تو غیر ذاتی کا لفظ آتے ہی شرك کا خاتمہ ہوگیا کہ جب بعطائے الٰہی مانا تو شرك کے کیا معنی برخلاف اس طاغی سرکش کےجو عقل کی آنکھ پر مکابرہ کی پٹی باندھ کر صاف کہتا ہے پھر خواہ یوں سمجھے کہ یہ بات ان کو اپنی ذات سے ہے خواہ الله کے دینے سے غرض اس عقیدے سے ہر طرح شرك ثابت ہوتا ہے[1]۔کسی سفیہ مجنوں سے
عــــــہ:فرق یہ کہ اول میں حکم منع حکایت بنظر بطلان وعدم مطابقت ہوگا یعنی واقعہ میں موضوع ایسے صفت سے متصف ہی نہیں جو اس حکایت کا مصحح ہو،اوردوم میں حکایت خود ہی محذور ہوگی اگر صادق ہوکہ صدق وصحت اطلاق الزام نہیں،
|
الاترٰی انانؤمن بان محمدًا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اعز عزیز واجل جلیل من خلق الله عزوجل ولکن لایقال محمد عزوجل بل صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔ |
کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہمارااعتقاد ہے کہ محمد صلی ا لله تعالٰی علیہ وسلم مخلوق الٰہی میں ہر عزیز سے بڑھ کر عزیز اورہر جلالت والے سے بڑھ کر جلیل ہیں مگر محمد عزوجل نہیں کہا جاتابَلکہ محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کہا جاتاہے۔(ت) |
تو درجہ اول میں ہمیں یہ بیان کرنا ہے کہ اسناد غیر ذاتی کا مطلقًا متحقق،اوردوم میں یہ کہ یہ اطلاق یقینا جائز۔پر ظاہر کہ دلائل وجہ دوم سب دلائل وجہ اول بھی ہیں کہ حکایات الہٰیہ ونبویہ قطعًاصادق۔لہذا ہم انہیں جانب کثرت بقلت توجہ کریں گے نصوص وجہ ثانی بکثرت لائیں گے وبالله التوفیق ۱۲منہ دامت فیوضہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع