30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تصرفات ونداوسماع فریاد وغیرہا ایسے فرق نہ کرنے پر مبنی ہیں۔فقیر غفرالله تعالٰی لہ نے اس بحث شریف میں ایك نفیس رسالہ کی طرح ڈالی ہے اس میں متعلق نزاعات وہابیہ صدہا اطلاقات کو آیات واحادیث سے ثابت اوراحکام اسنادات کو مفصل بیان کرنے کا قصد ہے ان شاء الله تبارك وتعالٰی حضور پر نور،معطی البہار والسرور،دافع البلاء والشرور،شافع یوم النشور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو دافع البلاء کہنا بھی بمعنی حقیقی عطائی ہے مخالف متعسف کو یوں توفیق تصدیق نہ ہو تو فقیر کا رسالہ ''سلطنۃ المصطفٰی فی ملکوت کل الورٰی''مطالعہ کرے کہ بعونہٖ تعالٰی تحقیق وتوثیق کے باغ لہکتے نظر آئیں اورایمان وایقان کے پھول مہکتے،خیر یہاں اس بحث کی تکمیل کا وقت نہیں تنزیلًا یہی سہی کہ احد الامرین سے خالی نہیں نسبت حقیقی عطائی ہے یا ازانجاکہ حضور سبب ووسیلہ وواسطہ دفع البلاء ہیں لہذا نسبت مجازی،رہی حقیقی ذاتی حاشا کہ کسی مسلمان کے قلب میں کسی غیر خدا کی نسبت اس کا خطرہ گزرے۔
امام علامہ سیدی تقی الملۃ والدین علی بن عبدالکافی سبکی قدس سرہ الملکی(جن کی امامت وجلالت محل خلاف وشبہت نہیں،یہاں تك کہ میاں نذیر حسین دہلوی اپنے ایك مہری مصدق فتوٰی میں انہیں بالاتفاق امام مجتہد مانتے ہیں)کتاب مستطاب شفاء السقام شریف میں ارشاد فرماتے ہیں:
|
لیس المراد نسبۃ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الی الخلق والاستقلال بالافعال ھذا لایقصدہ مسلم فصرف الکلام الیہ ومنعہ من باب التلبیس فی الدین والتشویش علی عوام المؤحدین[1]۔ |
یعنی نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے مدد مانگنے کا یہ مطلب نہیں کہ حضور خالق وفاعل مستقل ہیں یہ تو کوئی مسلمان ارادہ نہیں کرتا،تو اس معنی پرکلام کو ڈھالنا اورحضور سے مدد مانگنے کو منع کرنا دین میں مغالطہ دینا اورعوام مسلمانوں کو پریشانی میں ڈالنا ہے۔ |
صدقت یا سید ی جزاك الله عن الاسلام والمسلمین خیرًا،اٰمین(اے میرے آقا!آپ نے سچ فرمایا،الله تعالٰی آپ کو اسلام اورمسلمانوں کی طرف سے جزاء خیر عطافرمائے۔ت)
فقیر کہتاہے ایك دفع بلاء وامداد وعطاہی پر کیا موقوف مخلوق کی طرف اصل وجود ہی کی اسناد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع