30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بتا نے بَلکہ یہ بات بات پرشرك پھیلانے سے اصل مدعا کیا ہے وہ ایك دائے باطنی ومرض خفی ہے کہ اکثر عوام بیچاروں کی نگاہ سے مخفی ہے ان نئے فلسفوں پرانے فیلسوفوں کے نزدیك شرك امور عامہ سے ہے کہ عالم میں کوئی موجود اس سے خالی نہیں یہاں تك کہ معاذالله حضرات علیہ انبیائے کرام وملٰئکہ عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام تاآنکہ عیاذًابالله خود حضرت رب العزۃ وحضور پر نور سلطان رسالت علیہ افضل الصلوٰۃ والتحیۃ،ولہذا امام الطائفہ نے جابجا وبیجا مسائل جی سے گھڑے کہ یہ ناپاك چھینٹا وہاں تك بڑھے،جس کی بعض مثالیں مجموعہ فتاوٰی فقیر ''العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ ''کی جلد ششم ''البارقۃ الشارقہ علی مارقۃ المشارقہ''میں ملیں گی،ان کی تفصیل سے تطویل کی حاجت نہیں،یہ حضرات کہ اس امام کے مقلد ہیں
" اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ مُّقْتَدُوۡنَ ﴿۲۳﴾"[1](ہم ان کی لکیر کے پیچھے ہیں۔ت)پڑھتے ہوئے اسی ڈگر ہوئے،یہ حکم شرك بھی اسی دبی آگ کا دھواں دے رہا ہے، اجمال سے نہ سمجھو تو مجھ سے مفصل سنو۔
اقول:وبالله التوفیق،نسبت واسناد دوقسم ہے:حقیقی کہ مسند الیہ حقیقت سے متصف ہو۔
اورمجازی کہ کسی علاقہ سے غیر متصف کی طرف نسبت کردیں جیسے نہر کو جاری یا حابس سفینہ کو متحرك کہتے ہیں،حالانکہ حقیقۃً آب وکشتی جاری متحرك ہیں۔
پھر حقیقی بھی دو۲ قسم ہے:ذاتی کہ خود اپنی ذات سے بے عطائے غیر ہو،اورعطائی کہ دوسرے نے اسے حقیقۃً متصف کردیا ہو خواہ وہ دوسرا خود بھی اس وصف سے متصف ہو جیسے واسطہ فی الثبوت میں،یانہیں جیسے واسطہ فی الاثبات میں۔ان سب صورتوں کی اسنادیں تمام محاورات عقلائے جہاں واہل ہر مذہب وملت وخود قرآن وحدیث میں شائع وذائع،مثلًا انسان عالم کو عالم کہتے ہیں،قرآن مجید میں جابجا اولوالعلم وعلمؤابنی اسرائیل اورانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی نسبت لفظ علیم وارد،یہ حقیقت عطائیہ ہے یعنی بعطائے الٰہی وہ حقیقۃً متصف بعلم ہیں،اورمولٰی عزوجل نے اپنے نفس کریم کو علیم فرمایا یہ حقیقت ذاتیہ ہے کہ وہ بے کسی کی عطا کے اپنی ذات سے عالم ہے۔سخت احمق وہ کہ ان اطلاقات میں فرق نہ کرے۔وہابیہ کے مسائل شرکیہ استعانت وامداد و علم غیب و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع