30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور ان میں بہت سے کفر سے جدا ہوں گے کہ غیب کے علم ظنی کا ادعاء کفر نہیں۔بحر الرائق و ردالمحتار میں ہے:
|
علم من مسائلھم ھنا ان من استحل ما حرمہ الله تعالٰی علٰی وجہٖ الظن لا یکفر و انما یکفر اذا اعتقد الحرام حلالًا و نظیرہ ما ذکرہ القرطبی فی شرح مسلمٍ ان ظن الغیب جائز کظن المنجم و الرمال بوقوع شیءٍ فی المستقبل بتجربۃ امرٍ عادی فھو ظن صادق والممنوع ادعاء علم الغیب والظاھر ان ادعاء ظن الغیب حرام لا کفر بخلاف ادعاء العلم [1] اھ ۔ زاد فی البحر الا ترٰی انھم قالوا فی نکاح المحرم لو ظن الحل لا یحد بالاجماع و یعزر کما فی الظھیریۃ و غیرھا و لم یقل احد انہ یکفر و کذا فی نظائرہ [2]اھ |
ان مسائل سے معلوم ہوگیا کہ جس نے الله تعالٰی کے حرام کردہ کو حلال گمان کیا وہ کافر نہ ہو گا کافر توحرام کو حلال اعتقاد کرنے سے ہوگا۔اس کی نظیر وہ ہے جو قرطبی نے شرح مسلم میں ذکر کیا کہ ظن غیب جائز ہے جیسا نجومی اور رملی کا کسی امر عادی کے تجربہ کی بنیاد پر مستقبل میں کسی امر کے واقع ہونے کا ظن۔یہ ظن صادق ہے۔اورجو ممنوع ہے وہ علم غیب کا ادعاء ہے،اورظاہر ہے کہ ظن غیب کا ادعاء حرام ہے کفر نہیں بخلاف علم غیب کے ادعاء کے اھ۔بحر میں زائد ہے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ نکاح محرم کے بارے میں مشائخ نے کہا ہے کہ اگر اس کو حلال کا ظن تھا تو بالاجماع حد نہیں لگائی جائیگی بَلکہ تعزیر لگائی جائے گی،جیسا کہ ظہیریہ وغیرہ میں ہے۔ا س کی تکفیر کا قول کسی نے نہیں کیا،یونہی اس کی نظائر میں ہے۔(ت) |
توکیونکر ممکن ہے کہ علماء باوصف ان تصریحات کے کہ ایك احتمال اسلام بھی نافی کفر ہے جہاں بکثرت احتمالات اسلام موجودہیں۔حکم کفر لگائیں لاجرم اس سے مرادہی خاص احتمال کفر ہے مثل ادعائے علم ذاتی وغیرہ ورنہ یہ اقوال آپ ہی باطل اور ائمہ کرام کی اپنی ہی تحقیقات عالیہ کے مخالف ہوکر خود ذاہب و زائل ہوں گے،اس کی تحقیق جامع الفصولین ورد المحتار و حاشیہ علامہ نوح و ملتقط وفتاوٰی حجۃ وتاتار خانیہ مجمع الانھرو حدیقہ ندیہ وسل الحسام وغیر ہا کتب میں ہے۔نصوص عبارات رسائل علم غیب مثل اللولؤ المکنون
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع