30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو ہلکا بھی نہ کیا جائے گا نہ کہ ۹۹۹کا انکار کرے اور ایك کو مان لے تو مسلمان ٹھہرے،یہ مسلمانوں کا عقیدہ نہیں بَلکہ بشہادت قرآن عظیم خود صریح کفرہے۔
خامسًا: اصل بات یہ ہے کہ فقہائے کرام پر ان لوگوں نے جتنا افتراء اٹھایا،انہوں نے ہرگزکہیں ایسا نہیں فرمایا بَلکہ انہوں نے بہ خصلت یہود " یُحَرِّفُوۡنَ الْکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ"[1]یہودی بات کو اس کے ٹھکانوں سے پھیرتے ہیں۔تحریف تبدیل کرکے کچھ کا کچھ بنالیا،فقہا ء نے یہ نہیں فرمایا کہ جس شخص میں ننانوے باتیں کفر کی اور ایك اسلام کی ہو وہ مسلمان ہے۔حاشاللٰہ ! بَلکہ امت کا اجماع ہے کہ جس میں ننانوے ہزار باتیں اسلام کی اور ایك کفر کی ہو وہ یقینًاقطعًاکافرہے۔۹۹ قطرے گلاب میں ایك بوند پیشاب کا پڑ جائے،سب پیشاب ہوجائے گامگر یہ جاہل کہتے ہیں ننانوے قطرے پیشاب میں ایك بوند گلاب کا ڈال دو،سب طیب و طاہر ہوجائے گا۔حاشا کہ فقہا ء توفقہاء کوئی ادنٰی تمیز والا بھی ایسی جہالت بکے۔بَلکہ فقہاء کرام نے یہ فرمایا ہے کہ'' جس مسلمان سے کوئی لفظ ایسا صادر ہو جس میں سو پہلو نکل سکیں،ان میں ۹۹ پہلو کفر کی طرف جاتے ہوں اور ایك اسلام کی طرف توجب تك ثابت نہ ہوجائے کہ اس نے خاص کوئی پہلوکفر کا مراد رکھا ہے ہم اسے کافر نہ کہیں گے کہ آخر ایك پہلو اسلام بھی تو ہے،کیا معلوم شایداس نے یہی پہلومراد رکھا ہو'' اور ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ'' اگر واقع میں اس کی مراد کوئی پہلوئے کفر ہے توہماری تاویل سے اسے فائدہ نہ ہوگا۔وہ عنداﷲکافرہی ہوگا۔''اس کی مثال یہ ہے کہ مثلًا زید کہے'' عمر وکو علم قطعی یقینی غیب کا ہے''۔اس کلام میں اتنے پہلوہیں:
(۱)عمر و اپنی ذات سے غیب دان ہے یہ صریح کفر وشرك ہے۔
|
" قُل لَّا یَعْلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیۡبَ اِلَّا اللہُ ؕ"[2]۔ |
تم فرماؤ غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اورزمین میں ہیں مگر اللہ۔(ت) |
(۲)عمر و آپ توغیب دان نہیں مگر جو علم غیب رکھتے ہیں۔ان کے بتائے سے اسے غیب کا علم یقینی ہوجاتا ہے،یہ بھی کفر ہے۔
|
" تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنۡ لَّوْ کَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ الْغَیۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِی الْعَذَابِ الْمُہِیۡنِ ﴿۱۴﴾"[3]۔ |
جنوں کی حقیقت کھل گئی،اگر غیب جانتے ہوتے تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع