30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورمحض(عہ)تحیت فی نفسہٖ کفر نہیں و لہذا اگر مثلًا کسی عالم یا عارف کوتحیۃً سجد ہ کرے،گنہگار ہوگا،کافر نہ ہوگا امثال بت میں شرع نے مطلقًا حکم کفر بربنائے شعار خاص کفر رکھاہے بخلاف بدگوئی حضورپرنورسیدعالم،کہ فی نفسہٖ کفر ہے جس میں کوئی احتمال اسلام نہیں۔
او ر میں یہاں اس فرق پر بناء نہیں رکھتاکہ ساجد صنم کی توبہ باجماع امت مقبول ہے مگر سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ ہزارہاائمہ دین کے نزدیك اصلًا قبول نہیں اور اسی کو ہمارے علماء حنفیہ سے اما م بزازی و امام محقق علی الاطلاق ابن الہما م و علامہ مولٰی خسرو صاحب دررو غرر و علامہ زین بن نجیم صاحب بحر الرائق و اشبا ہ و النظائر و علامہ عمربن نجیم صاحب نہر الفائق و علامہ ابو عبد اﷲ محمد بن عبداﷲ غزی صاحب تنویر الابصار و علا مہ خیر الدین رملی صاحب فتاوٰی خیریہ و علا مہ شیخی زادہ صاحب مجمع الانھروعلامہ مدقق محمد بن علی حصکفی صاحب
عــــــہ:شرح مواقف میں ہے:
|
سجودہ لھا یدل بظاھرہ انہ لیس بمصدق ونحن نحکم بالظاھر فلذا حکمنا بعدم ایمانہ لالان عدم السجود لغیر الله دخل فی حقیقۃ الایمان حتی لو علم انہ لم یسجد لہا علٰی سبیل التعظیم واعتقاد الالٰھیۃ بل سجد لہا وقلبہ مطمئن بالتصدیق لم یحکم بکفرہ فیمابینہ وبین الله وان اجری علیہ حکم الکفر فی الظاھر[1]۱۲منہ۔ |
اس کا سورج کو سجدہ کرنا بظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی تصدیق نہیں کرتا ہے اورہم ظاہر پر حکم لگاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس کے عدم ایمان کا حکم لگایاہے۔یہ حکم اس وجہ سے نہیں لگایا کہ غیر الله کو سجدہ نہ کرنا ایمان کی حقیقت میں داخل ہے یہاں تك کہ اگر معلوم ہوجائے کہ اس نے سورج کو سجدہ بطور تعظیم اوراس کو معبود سمجھ کر نہیں کیا بَلکہ اس کو سجدہ کیا درآنحالیکہ اس کا دل تصدیق وایمان کے ساتھ مطمئن تھا تو عندالله اس کے کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا اگرچہ بظاہر اس پر کفر کاحکم جاری کیا جائیگا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع