30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اصول حسامی میں فرماتے ہیں:
|
ان غلافیہ(ای فی ھواہ)حتٰی وجب اکفارہ بہٖ لا یعتبر خلافہ ووفاقہ ایضًالعدم دخولہٖ فی مسمٰی الامۃ المشھودلھا بالعصمۃ وان صلٰی الٰی القبلۃ واعتقد نفسہ مسلمًالان الامۃ لیست عبارۃً من المصلین الٰی القبلۃ بل عن المؤمنین وھو کافر وان کان لا یدری انہ کافر[1]۔ |
یعنی بدمذہب اگر اپنی بدمذہبی میں غالی ہو جس کے سبب اسے کافر کہنا واجب ہوتو اجماع میں اس کی مخالفت،موافقت کا کچھ اعتبار نہ ہوگاکہ خطا سے معصوم ہونے کی شہادت تو امت کے لئے آئی ہے اور وہ امت ہی سے نہیں اگر چہ قبلہ کی طرف نماز پڑھتا اور اپنے آپ کو مسلمان اعتقاد کرتا ہواس لئے کہ امت قبلہ کیطرف نماز پڑھنے والوں کانام نہیں بَلکہ مسلمان کانام ہے اور یہ شخص کافر ہے اگر چہ اپنی جان کو کافرنہ جانے۔ |
ردالمحتار میں ہے:
|
لاخلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام وان کان من اھل القبلۃ المواظب طول عمرہٖ علٰی الطاعات کمافی شرح التحریر[2]۔ |
یعنی ضروریات اسلام سے کسی چیز میں خلاف کرنے والا بالاجماع کافر ہے اگر چہ اہل قبلہ سے ہو اور عمر بھر طاعات میں بسر کرے جیسا کہ شرح تحریر میں امام بن الہمام نے فرمایا۔ |
کتب عقائد وفقہ واصول ان تصریحات سے مالامال ہیں۔
رابعًا: خود مسئلہ بدیہی ہے کیا جو شخص پانچ وقت قبلہ کی طرف نماز پڑ ھتا او ر ایك وقت مہادیو کو سجدہ کرلیتا ہو،کسی عاقل کے نزدیك مسلمان ہوسکتا ہے حالانکہ اﷲ کوجھوٹا کہنا یا محمد رسول اﷲ کی شان اقدس میں گستاخی کرنا،مہادیو کے سجدے سے کہیں بدترہے اگرچہ کفرہونے میں برابرہے وذٰلك ان الکفر بعضہ اخبث من بعضٍ(اوریہ اس لئے کہ بعض کفر بعض سے خبیث تر ہے)وجہ یہ کہ بت کو سجدہ علامت تکذیب خدا ہے اور علامت تکذیب میں تکذیب کے برابر نہیں ہو سکتی اور سجدہ میں یہ احتمال بھی نکل سکتا ہے کہ محض تحیت و مجرا مقصود ہو نہ عبادت۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع