30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان میں سے ایك بات کا بھی منکر ہوتوقطعًا یقینًا اجماعًا کافر مرتد ہے ایسا کہ جو اسے کا فر نہ کہے خودکافر ہے۔ شفاء شریف وبزازیہ ودرروغرروفتا وٰی خیریہ وغیر ہامیں ہے:
|
اجمع المسلمون ان شاتمہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کافر ومن شك فی عذابہٖ وکفرہٖ کفر[1]۔ |
تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جو حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی شان پاك میں گستاخی کر ے وہ کافر ہے اور جو اس کے معذب یا کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔ |
مجمع ا لانھرودرمختار میں ہے:
|
واللفظ لہ الکافر بسب نبی من الانبیاء لاتقبل توبتہ مطلقًا و من شك فی عذابہٖ و کفرہٖ کفر[2]۔ |
جوکسی نبی کی شان میں گستاخی کے سبب کافر ہوااس کی توبہ کسی طرح قبول نہیں اور جو اسکے عذاب یا کفر میں شك کرے خود کافر ہے۔ |
الحمد ﷲ ! یہ نفیس مسئلہ کاو ہ گراں بہاجزئیہ ہے جس میں ان بدگویوں کے کفرپر اجماع تمام امت کی تصریح ہے اور یہ بھی کہ جو انہیں کافر نہ جانے خود کافر ہے۔شرح فقہ اکبر میں ہے:
|
فی المواقف لا یکفر اھل القبلۃ الا فیما فیہ انکار ما علم مجیئہ بالضرورۃ اوالمجمع علیہ کاستحلال المحرمات اھ ولا یخفٰی ان المراد بقول علمائنالا یجوزتکفیر اھل القبلۃ بذنب لیس مجرد التوجہ الٰی القبلۃ فان الغلاۃ من الروافض الذین یدعون ان جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام غلط فی |
یعنی مواقف میں ہے کہ اہل قبلہ کو کافر نہ کہاجاو ے گا مگر جب ضروریات دین یا اجماعی باتوں سے کسی بات کا انکار کریں جیسے حرام کو حلال جاننا اور مخفی نہیں کہ ہمارے علماء جو فرما تے ہیں کہ کسی گناہ کے باعث اہل قبلہ کی تکفیر روا نہیں اس سے نرا قبلہ کومنہ کرنا مراد نہیں کہ غالی رافضی جوبکتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام کووحی میں دھوکا ہوا۔اﷲتعالٰی نے انہیں مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ کی طرف بھیجا تھا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع