30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالغیب۔ |
جانیں ، |
اس پر اﷲ عزوجل نے یہ آیت کریمہ اتاری کہ کیا اﷲ ورسول سے ٹھٹھاکرتے ہو،بہانے نہ بناؤ،تم مسلمان کہلاکر اس لفظ کے کہنے سے کافرہوگئے۔
(دیکھو تفسیر امام ابن جریر مطبع مصر جلد دہم صفحہ ۱۰۵ و تفسیر در منثور[1]اما م جلال الدین سیوطی جلد سوم صفحہ ۲۵۴)
مسلمانو! دیکھو محمد رسول اﷲ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں اتنی گستاخی کرنے سے کہ وہ غیب کیا جانیں،کلمہ گوئی کام نہ آئی اور اﷲتعالی(عزوجل)نے صاف فرمادیا کہ بہانے نہ بناؤ،تم اسلام کے بعد کا فر ہوگئے۔یہاں سے وہ حضرات بھی سبق لیں جورسول اﷲصلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے علوم غیب سے مطلقًا منکر ہیں۔
دیکھو یہ قول منافق کا ہے اور اس کے قائل کو اﷲ تعالٰی نے الله و قرآن و رسول سے ٹھٹھاکرنے والا بتایا اور صاف صاف کافر مرتد ٹھہرایا اور کیوں نہ ہو،غیب کی بات جاننی شان نبوت ہے جیسا کہ امام حجۃ الاسلام محمد غزالی واحمد قسطلانی ومولانا علی قاری و علا مہ محمد زرقانی وغیرہم اکابرنے تصریح فرمائی جس کی تفصیل رسائل علم غیب میں بفضلہ تعالٰی بروجہ اعلٰی مذکور ہوئی پھر اس کی سخت شامت کمال ضلالت کا کیا پوچھنا جو غیب کی ایك بات بھی،خدا کے بتائے سے بھی،نبی کو معلوم عــــــہ۱ ہونا محا ل و نا ممکن بتاتا ہے،اس کے نزدیك اﷲ سے سب چیزیں غائب ہیں اور اﷲکو اتنی قدرت نہیں کہ کسی کو ایك غیب کا علم دے سکے، اﷲتعالٰی شیطان کے دھوکوں سے پناہ دے۔آمین۔ہاں بے خدا کے بتائے،کسی کو ذرہ بھر کاعلم ماننا،ضرورکفر ہے اور جمیع معلوما ت الہیہ کو علم مخلوق کا محیط ہونا بھی باطل اور اکثر علماء عــــــہ۲ کے خلاف ہے،لیکن روز اول سے روز آخر تك کا ماکان وما یکون،اﷲتعالٰی کے معلومات سے وہ نسبت بھی نہیں رکھتا جوایك ذرے کے لاکھویں،کروڑویں حصے برابر،تری کو، کروڑہاکروڑسمندروں سے ہو بَلکہ یہ خود علوم محمد یہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کاایك چھوٹا سا ٹکڑا ہے،ان تمام امور کی تفصیل'' الدولۃ المکیہ'' وغیرہا میں ہے۔خیر تو یہ جملہ معتر ضہ تھا او ر ان شاء اﷲ العظیم بہت مفید تھا،اب بحث سابق
عــــــہ۱:اس نئے شاخسانے کے رد میں بفضلہٖ تعالٰی چاررسالے ہیں:اراحۃ جوانح الغیب،الجلاء الکامل،ابرار المجنون،میل الہداۃ،جن میں پہلا ان شاء الله مع ترجمہ عنقریب شائع ہوگا اورباقی تین بھی بعونہٖ تعالٰی اس کے بعد،وبالله التوفیق ۱۲کاتب عفی عنہ۔
عــــــہ۲:اکثر کی قید کا فائدہ رسالہ ''الفیوض المکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ ''میں ملاحظہ ہوگا ان شاء الله تعالٰی ۱۲کاتب عفی عنہ۔
[1] الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابی الشیخ عن مجاید تحت آیۃ ۹/ ۶۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۱۰،جامع البیان(تفسیر ابن جریر تحت آیۃ ۹/ ۶۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۰/ ۱۹۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع