30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا جس نے یہ سب تو اس مکذب خدا کی نسبت بتایا اور یہیں خود اپنی طرف سے باوصف اس بے معنٰی اقرار کہ''قدرۃ علٰی الکذب مع امتناع الوقوع مسئلہ اتفاقیہ ہے''[1]۔صاف صریح کہہ دیاکہ وقوع کذب کے معنٰی درست ہوگئے [2]۔یعنی یہ بات ٹھیك ہوگئی کہ خدا سے کذب واقع ہوا،کیا یہ شخص مسلمان رہ سکتاہے ؟ کیا جوایسے کو مسلمان سمجھے خودمسلمان ہوسکتاہے؟
مسلمانو ! خدا را انصاف،ایمان نام کاہے کا تھا تصدیق الہی کا،تصدیق کا صریح مخالف کیا ہے،تکذیب،تکذیب کے کیا معنی ہیں کسی کی طرف کذب منسوب کرنا۔جب صراحۃً خداکو کاذب کہہ کر بھی ایمان باقی رہے تو خدا جانے ایمان کس جانور کا نام ہے ؟ خدا جانے مجوس وہنود و نصٰارٰی و یہود کیوں کافر ہوئے ؟ ان میں توکوئی صاف اپنے معبود کو جھوٹا بھی نہیں بتاتا۔ہاں معبود بر حق کی باتوں کویوں نہیں مانتے کہ انہیں اسکی با تیں ہی نہیں جانتے یا تسلیم نہیں کرتے۔ایسا تو دنیا کے پر دے پرکوئی کافر سا کافر بھی شاید نہ نکلے کہ خدا کو خدا مانتا،اسکے کلام کواسکا کلام جانتا اورپھر بے دھڑك کہتا ہو کہ اس نے جھوٹ کہا،اس سے وقوع کذب کی معنی درست ہوگئے۔غرض کوئی ذی انصاف شك نہیں کرسکتا کہ ان تمام بدگویوں نے منہ بھرکراﷲ ورسول کو گالیاں دی ہیں،اب یہی وقت امتحان الٰہی ہے،واحد قہار جبار عزجلالہ سے ڈرو اور وہ آیتیں کہ اوپر گزریں،پیش نظر رکھ کر عمل کرو۔ آپ تمہارا ایمان تمہارے دلوں میں تمام بدگویوں سے نفرت بھر د ے گا۔ہرگز اﷲ و رسول اﷲ جل و علا کے مقابل تمہیں انکی حمایت نہ کرنے دے گا۔تم کو ان سے گھن آئے گی نہ کہ ان کی پچ کرو،اﷲ ورسول کے مقابل انکی گالیوں میں مہمل و بیہودہ تاویل گھڑو۔
ﷲانصاف ! اگر کوئی شخص تمہارے ماں،باپ،استاد،پیر کوگالیاں دے اور نہ صرف زبانی بَلکہ لکھ لکھ کر چھاپے،شائع کرے۔ کیا تم اس کا ساتھ دوگے یااس کی بات بنانے کو تاویلیں گھڑوگے یا اس کے بکنے سے بے پرواہی کرکے اس سے بدستور صاف رہوگے ؟ نہیں نہیں ! اگر تم میں انسانی غیرت،انسانی حمیت،ماں باپ کی عزت حرمت عظمت محبت کانام نشان بھی لگارہ گیا ہے تو اس بدگو دشنامی کی صورت سے نفرت کروگے،اسکے سائے سے دور بھاگوگے،اس کا نام سن کرغیظ لاؤگے جو اس کے لئے بناوٹیں گڑھے،اسکے بھی دشمن ہوجاؤگے،پھرخدا کے لئے ماں باپ کو ایك پلہ میں رکھو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع