30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان بدگویوں نے چوپایوں کا علم تو انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے علم کے برابرمانا۔اب ان سے پوچھئے کیا تمہارا علم انبیاء یا خود حضور سید الانبیاء علیہ و علیہم الصلٰوۃ والثنا ء کے برابر ہے،ظاہر ًا اسکا دعوٰی نہ کریں گے اور اگر کہہ بھی دیں کہ جب چوپایوں سے برابر ی کردی،آپ تو دوپائے ہیں برابر ی مانتے کیامشکل ہے ؟ تو یوں پوچھئے تمہارے استادوں،پیروں،ملاؤں میں کوئی بھی ایسا گزرا جو تم سے علم میں زیادہ ہو یا سب ایك برابر ہو۔آخر کہیں تو فرق نکالیں گے توان کے وہ استاد وغیرہ تو ان کے اقرار سے علم میں چوپایوں کے برابر ہوئے اور یہ ان سے علم میں کم ہیں،جب تو انکی شاگردی کی،اور جو ایك مساوی سے کم ہو دوسرے سے بھی ضرور کم ہوگا تو یہ حضرات خود اپنی تقریر کی رو سے چوپایوں سے بڑ ھ کر گمراہ ہوئے اور ان آیتوں کے مصداق ٹھہرے۔
|
" کَذٰلِکَ الْعَذَابُ ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ ۘ لَوْ کَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ ﴿۳۳﴾٪ "[1]۔ |
مار ایسی ہوتی ہے او ر بے شك آخرت کی مار سب سے بڑی،کیا اچھاتھا ا گر وہ جانتے۔ |
مسلمانو ! یہ حالتیں تو ان کلمات کی تھیں جن میں انبیائے کرام و حضور پر نورسید الانام علیہ الصلٰوۃ والسلام پر ہاتھ صاف کئے گئے پھر ان عبارات کا کیا پوچھنا جن میں اصالۃً بالقصد رب العزت عز جلالہ کی عزت پر حملہ کیا گیا ہو۔خدارا انصاف ! کیا جس نے کہا ''میں نے کب کہا ہے کہ میں و قوع کذب باری کا قائل نہیں ہوں [2]،یعنی وہ شخص اس کا قائل ہے کہ خدا بالفعل جھو ٹا ہے جھوٹ بولا،جھوٹ بولتاہے۔اس کی نسبت یہ فتوٰی دینے والا کہ'' اگر چہ اس نے تاویل آیات میں خطاکی مگر تاہم اس کو کافر یا بدعتی خیال کہنانہیں چاہئے،جس نے کہا کہ'' اس کو کوئی سخت کلمہ نہ کہنا چاہیے [3]'' جس نے کہا کہ'' اس میں تکفیر علمائے سلف کی لازم آتی ہے۔حنفی،شافعی پر طعن و تضلیل نہیں کرسکتا ''[4]۔یعنی خدا کو معاذاﷲ جھوٹا کہنا بہت سے علمائے سلف کا بھی مذہب تھا۔یہ اختلاف حنفی شافعی کاسا ہے۔کسی نے ہاتھ ناف سے اوپر باندھے،کسی نے نیچے،ایساہی اسے بھی سمجھو کہ کسی نے خدا کو سچا کہاکسی نے جھوٹا،لہذا ''ایسے کو تضلیل و تفسیق سے مامون کرنا چاہیے ''[5]۔یعنی جو خدا کو جھوٹا کہے اسے گمراہ کیا معنی ؟گنہگار نہ کہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع