30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿۲۲﴾٪"[1]۔ |
اﷲ والے ہی مراد کو پہنچے۔ |
اس آیت کریمہ میں صاف فرمادیا کہ جو اﷲ یا رسول اﷲکی جناب میں گستاخی کرے،مسلمان اس سے دوستی نہ کرے گا،جس کا صریح مفاد ہوا کہ جو اس سے دوستی کرے وہ مسلمان نہ ہوگا۔پھر اس حکم کا قطعًا عام ہونا بالتصریح ارشاد فرمایا کہ باپ،بیٹے، بھائی،عزیز سب کوگنا یا،یعنی کوئی کیسا ہی تمہارے زعم میں معظم یا کیسا ہی تمہیں بالطبع محبوب ہو،ایمان ہے تو گستاخی کے بعد اس سے محبت نہیں رکھ سکتے،اس کی وقعت نہیں مان سکتے ورنہ مسلمان نہ رہوگے۔مولٰی سبحانہ و تعالٰی کا اتنا فرمانا ہی مسلمان کے لئے بس تھا مگردیکھو وہ تمہیں اپنی رحمت کی طرف بلاتا،اپنی عظیم نعمتوں کا لالچ دلاتا ہے کہ اگر اﷲ ورسول کی عظمت کے آگے تم نے کسی کا پاس نہ کیا کسی سے علاقہ نہ رکھا تو تمہیں کیا کیا فائدے حاصل ہوں گے۔
(۱)اﷲتعالٰی تمہارے دلوں میں ایمان نقش کردے گا جس میں ان شاء ا ﷲ تعالٰی حسن خاتمہ کی بشارت جلیلہ ہے کہ اﷲ کا لکھا نہیں مٹتا۔
(۲)اﷲتعالٰی روح القدس سے تمہاری مددفرمائے گا۔
(۳)تمہیں ہمیشگی کی جنتوں میں لے جائے گاجن کے نیچے نہریں رواں ہیں۔
(۴)تم خدا کے گروہ کہلاؤگے،خدا والے ہوجاؤگے۔
(۵)منہ مانگی مرادیں پاؤگے بَلکہ امید و خیال و گمان سے کروڑوں درجے افزوں۔
(۶)سب سے زیادہ یہ کہ اﷲتم سے راضی ہوگا۔
(۷)یہ کہ فرماتاہے ''میں تم سے راضی تم مجھ سے راضی ''بندے کیلئے اس سے زائد او رکیا نعمت ہوتی کہ اس کا رب اس سے راضی ہومگر انتہائے بندہ نوازی یہ کہ فرمایا اﷲ ان سے راضی وہ اﷲ سے راضی۔
مسلمانو! خدا لگتی کہنا اگر آدمی کروڑجانیں رکھتا ہو اور سب کی سب ان عظیم دولتوں پر نثار کردے توواﷲ مفت پائیں،پھرزیدو عمرو سے علاقہ تعظیم و محبت،یك لخت قطع کردینا کتنی بڑی بات ہے؟ جس پر اﷲ تعالٰی ان بے بہانعمتوں کا وعدہ فرمارہاہے اور اس کا وعدہ یقینًا سچا ہے۔قرآن کریم کی عادت کریمہ ہے کہ جوحکم فرماتاہے جیساکہ اس کے ماننے والوں کو اپنی نعمتوں کی بشارت دیتا ہے،نہ ماننے والوں پر اپنے عذابوں کا تازیانہ بھی رکھتاہے کہ جو پست ہمت نعمتوں کی لالچ میں نہ آئیں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع