30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الطبرانی والبغوی فی شرح السنۃ۔ |
میں روایت کیا ہے۔ت) |
ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالٰی عنہا فرماتی ہیں:
|
ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کان یغیرالاسم القبیح۔رواہ الترمذی [1]۔ |
مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم برے نام کو بدل دیتے تھے (اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔ت) |
وفی اخرٰی عنھا(اورام المومنین سے ہی دوسری روایت میں ہے۔ت):
|
کان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذا سمع بالاسم القبیح حوّلہ الٰی ماھو احسن منہ۔رواہ الطبرانی[2] بسندہ وھو عند ابن سعد عن عروۃ مرسلا۔ |
رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم جب کسی کا برا نام سنتے تو اس سے بہتر بدل دیتے(اس کو طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ متصلًا روایت کیا ہے اوروہ ابن سعد کے نزدیك عروہ سے مرسلًا مروی ہے۔ت) |
بریدہ اسلمی رضی الله تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
|
ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کان لایتطیر من شیئ وکان اذا بعث عاملاسأل عن اسمہ فاذا اعجبہ اسمہ فرح بہ وروئی بشر ذٰلك فی وجہہ وان کرہ اسمہ روئی کراھیۃ ذٰلك فی وجھہ واذا دخل قریۃ سأل عن اسمھا فاذا اعجبہ اسمہا فرح بھا وروئی بشر ذٰلك فی وجھہ وان کرہ اسمھا روئی کراھۃ ذٰلك فی وجہہ۔رواہ ابو داؤد[3]۔ |
مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کسی چیز سے بدشگونی نہ لیتے جب کسی عہدے پر کسی کو مقرر فرماتے اس کا نام پوچھتے اگر پسندآتا خوش ہوتے اوراس کی خوشی چہرہ انور میں نظر آتی اوراگر ناپسند آتا ناگواری کا اثر چہرہ اقدس پر ظاہر ہوتا،اورجب کسی شہر میں تشریف لے جاتے اس کا نام دریافت فرماتے، اگر خوش آتا مسرورہو جاتے اوراس کا سرور روئے پُرنُور میں دکھائی دیتا،اوراگر ناخوش آتا ناخوشی کا اثر روئے اطہر میں نظر آتا۔(رواہ ابو داؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع