30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وحینئذ لاحاجۃ بناالی ادعاء التخصیص فی الایات کما فعل العلماء المجیبون۔ |
دین کریم کی تفاصیل پر ایمان کی دولت سے مشرف فرمانے کے لئے زندہ کیا گیا،اس صورت میں ہمیں آیات کریمہ تخصیص کا دعوی کرنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ جواب دینے والے علماء نے کیا ہے۔(ت) |
اپنا مسلك اس باب میں یہ ہے:
ومن مذھبی حب الدیار لاھلہا وللناس فیما یعشقون مذاھب
(میر امذہب تو شہر والوں کی وجہ سے شہر سے محبت کرنا ہے اور لوگوں کے لئے ان کی پسندیدہ چیزوں میں مختلف طریقے ہیں۔ت)
جسے یہ پسند ہو فبہا،ونعمت ورنہ آخر اس سے تو کم نہ ہو کہ زبان روکے،دل صاف رکھے،" اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِی"[1](بیشك یہ بات نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتی ہے۔ت)سے ڈرے۔امام ابن حجر مکی شرح میں فرماتے ہیں:
|
مااحسن قول بعض المتوقفین فی ھٰذہ المسئلۃ الحذر الحذر من ذکر ھما بنقص فان ذٰلك قد یؤذیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لخبر الطبرانی لاتؤذوا الاحیاء بسبب الاموات[2]۔ |
یعنی کیا خوب فرمایا بعض علماء نے جنہیں اس مسئلے میں توقف تھا کہ دیکھ بچ والدین کریمین کو کسی نقص کے ساتھ ذکر کرنے سے کہ اس سے حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ و سلم کو ایذاء ہونے کا اندیشہ ہے کہ طبرانی کی حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:مردوں کو برا کہہ کر زندوں کو ایذاء نہ دو۔(ت) |
یعنی حضور تو زندہ ابدی ہیں ہمارے تمام افعال واقوال پر مطلع ہیں اورالله عزوجل نے فرمایاہے:
|
" وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۱﴾"[3]۔ |
جو لوگ رسول الله کو ایذاء دیتے ہیں ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع