30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نسبًا وخیرکم ابًا[1]۔ |
|
اس حدیث میں اول تو نفی عام فرمائی کہ عہد جاہلیت کی کسی بات نے نسب اقدس میں کبھی کوئی راہ نہ پائی،یہ خود دلیل کافی ہے اورامرجاہلیت کو خصوص زنا پر حمل کرنا ایك تو تخصیص بلا مخصص،دوسرے لغو کہ نفی زنا صراحۃًاس کے متصل مذکور۔
ثانیًا ارشادہوتا ہے کہ میرے باپ تم سب کے آباء سے بہتر۔ان سب میں حضرت سعید بن زید بن عمرورضی الله تعالٰی عنہما بھی قطعًا داخل تو لازم کہ حضرت والد ماجد حضرت زید سے افضل ہوں اوریہ بحکم آیت بے اسلام ناممکن۔
|
عاشرًا،اقول:قال الله عزوجل:" اَللہُ اَعْلَمُ حَیۡثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ؕ"[2]۔ |
دسویں دلیل:میں کہتاہوں،الله عزوجل نے فرمایا:خدا خوب جانتاہے جہاں رکھے اپنی پیغمبری۔ |
آیہ کریمہ شاہد کہ رب العزۃ عزّوعلاسب سے زیادہ معزز ومحترم موضع،وضع رسالت کے لیے انتخاب فرماتا ہے ولہذا کبھی کم قوموں رذیلوں میں رسالت نہ رکھی،پھر کفر وشرك سے زیادہ رذیل کیا شے ہوگی ؟وہ کیونکر اس قابل کہ الله عزوجل نور رسالت اس میں ودیعت رکھے۔کفار محل غضب ولعنت ہیں اورنو ررسالت کے وضع کو محل رضا ورحمت درکار۔
حضر ت ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالٰی عنہا پر ایك بار خوف وخشیت کا غلبہ تھا،گریہ وزاری فرمارہی تھیں،حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالٰی عنہما نے عرض کی:یا ام المومنین !کیا آپ یہ گمان رکھتی ہیں کہ رب العزت جل وعلانے جہنم کی ایك چنگاری کومصطفٰی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا جوڑا بنایا؟ ام المومنین نے فرمایا:
|
فرّجت عنی فرّج الله عنك[3]۔ |
تم نے میر اغم دور کیا الله تعالٰی تمہارا غم دور کرے۔ |
خود حدیث میں ہے،حضور سید یوم النشور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع