30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فتادب وکنّٰی وقال فذکر تشدیدافی ذٰلك واما ابو عبدالرحمن فادّٰی لتبلیغ العلم واداء الحدیث علٰی وجھہٖ لکل وجھۃ ھو مولیہا۔ |
نے ازراہ ادب بطور کنایہ اس میں تشدید کا ذکر کیا لیکن امام ابو عبدالرحمن نے کھل کر علم کو پہنچایا اورحدیث کا حق ادا کیا۔ ہر ایك کے لئے تو جہ کی ایك سمت ہے جس کی طرف وہ منہ کرتاہے۔(ت) |
یہ تو حدیث کا ارشاد ہے،اب ذرا عقائد اہلسنت پیش نظر رکھتے ہوئے نگاہ انصاف درکار،عورتوں کا قبرستان جانا غایت درجہ اگر ہے تو معصیت ہے،اورہرگز کوئی معصیت مسلمان کوجنت سے محروم اور کافر کے برابر نہیں کرسکتی،اہلسنت کے نزدیك مسلمان کا جنت میں جانا واجب شرعی ہے اگرچہ معاذالله مواخذے کے بعد،اورکافر کا جنت میں جانا محال شرعی کہ ابدالآباد تك کبھی ممکن ہی نہیں،اورنصوص کو حتی الامکان ظاہر پر محمول کرنا واجب،اور بے ضرورت تاویل ناجائز،اور عصمت نوع بشر میں خاصہ حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء ہے،ان کے غیر سے اگرچہ کیسا ہی عظیم الدرجات ہو،وقوع گناہ ممکن ومتصور۔یہ چاروں باتیں عقائد اہل سنت میں ثابت ومقرر،اب اگر بحکم مقدمہ رابعہ مقابر تك بُلوغ فرض کیجئے تو بحکم مقدمہ ثالثہ جزاء کا ترتب واجب،اوراس تقدیر پر کہ حضرت عبدالمطلب کو معاذ الله غیر مسلم کہئے بحکم مقدمتین اولین ونیزبحکم آیت کریمہ محال وباطل،تو واجب ہوا کہ حضرت عبدالمطلب مسلمان واہل جنت ہوں اگرچہ مثل صدیق وفاروق وعثمان وعلی وزہراو صدیقہ وغیرہم رضی الله تعالٰی عنہم سابقین اولین میں نہ ہوں۔اب معنی حدیث بلا تکلف اور بے حاجت تاویل و تصرف عقائد اہلسنت سے مطابق ہے یعنی اگر یہ امر تم سے واقع ہوتا تو سابقین اولین کے ساتھ جنت میں جانا نہ ملتا بَلکہ اس وقت جبکہ عبدالمطلب داخل بہشت ہوں گے ھکذا ینبغی التحقیق والله تعالٰی ولی التوفیق(یونہی تحقیق چاہئے اورالله تعالٰی ہی توفیق کا مالك ہے۔ت)
|
سادسًا،اقول:قال ربنا الاعزالاعلٰی عزوعلا: " وَ لِلہِ الْعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ لٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ ٪﴿۸﴾ "[1]۔ وقال تعالٰی:" یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا |
چھٹی دلیل:اقول:(میں کہتاہوں کہ)ہمارے پروردگار اعز و اعلٰی عزوعلانے فرمایا،عزت تو الله ورسول اورمسلمان ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو علم نہیں۔ اورالله تعالٰی نے فرمایا:اے لوگو! |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع