30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صحرائے شام میں تھے،ہاتف جن نے انہیں بعثت حضور سید المرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی خبر دی۔صبح راہب کے پاس جاکر قصہ بیان کیا،کہا:
|
قد صدقوك یخرج من الحرم ومھاجرہ الحرم وھو خیر الانبیاء[1]۔ |
جِنوں نے تجھ سے سچ کہا،حر م سے ظاہر ہونگے اورحرم کو ہجرت فرمائیں گے،اوروہ تمام انبیاء سے بہتر ہیں۔ |
روایت ہفتم:ابن عساکر ابو نعیم خرائطی بعض صحابہ خثعمیین سے راوی:ہم ایك شب اپنے بت کے پاس تھے اوراسے ایك مقدمہ میں پنچ کیا تھا ناگاہ ہاتف نے پکارا: ؎
یا ایھا الناس ذووا الاجسام ما انتم وطائش الاحکام
ومسند الحکم الی الاصنام ھذا نبی سید الانام
اعدل ذی حکم من الاحکام یصدع بالنور وبالاسلام
ویزجر الناس عن الآثام مستعلن فی البلد الحرام [2]
(اے بت پرست لوگو! تم احکام کو بیان کرنے والے نہیں ہو،اپنا مقدمہ بتوں کے پاس لے جانے والے ہو۔یہ نبی ہے جو کائنات کا سردار ہے،احکام کے فیصلے کرنے میں سب سے بڑا عادل ہے،نور اسلام کو کھول کر بیان کرتاہے،لوگوں کو گناہوں سے روکتا ہے،بلدحرام(مکہ مکرمہ)میں ظاہر ہونے والا ہے۔ت)
ہم سب ڈرکر بت کو چھوڑگئے اوراس شعر کے چرچے رہے یہاں تك کہ ہمیں خبر ملی۔حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم مکہ میں ظہور فرماکر مدینہ تشریف لائے،میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوا۔
روایت ہشتم۸:خرائطی وابن عساکر مرداس بن قیس دوسی رضی الله تعالٰی عنہ سے راوی،میں خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر ہوا حضور
[1] الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابو نعیم باب ماسمع من الکہان الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۱۰۷
[2] تاریخ دمشق الکبیر اخبار الاحبار بنبوتہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۵۷،دلائل النبوۃ لابی نعیم ذکر ما سمع من الجن الخ عالم الکتب بیروت ۱ /۳۳و۳۴،الخصائص الکبرٰی باب ماسمع من الکہان والاصوات الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۱۰۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع