30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبادہ بن صامت کی روایت میں ہے:
|
ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم خرج فقال ان جبریل اتانی فقال اخرج فحدث بنعمۃ الله التی انعم بھا علیك فبشرنی بعشرلم یؤتھا نبی قبلی۔ اخرجہ ابن ابی حاتم[1] وعثمان بن سعید الدارمی فی کتاب الرد علی الجھمیۃ وابو نعیم۔ |
جبریل نے میرے پاس حاضر ہوکر عرض کی:باہر جلوہ فرما کر الله تعالٰی کے وہ احسان جو حضور پر کئے ہیں بیان فرمائیے۔پھر مجھے دس فضیلتوں کا مژدہ دیا کہ مجھ سے پہلے کسی نے نہ پائیں۔(ابن ابی حاتم اورعثمان بن سعید دارمی نے کتاب الرد علی الجہمیہ میں اورابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ت) |
ان روایات ہی سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اعداد مذکورہ میں حصر مراد نہیں،کہیں دو فرماتے ہیں،کہیں تین،کہیں چار،کہیں پانچ،کہیں چھ،کہیں دس عــــــہ۱،اورحقیقۃً سو اوردو سو پر بھی انتہا نہیں۔امام علامہ جلال الدین سیوطی قدس سرہ عــــــہ۲ نے خصائص کبرٰی میں اڑھائی سو کے قریب حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے خصائص جمع کئے۔اوریہ صرف ان کا علم تھا،ان سے زیادہ علم والے زیادہ جانتے تھے۔اورعلمائے ظاہر سے علمائے باطن کو زیادہ معلوم ہے۔پھر تمام علوم عالم اعظم حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے ہزاروں منزل ادھر منقطع ہیں۔ جس قدر حضور اپنے فضائل وخصائص جانتے ہیں دوسرا کیا جانے گا،اور حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے زیادہ علم والا ان کا مالك ومولٰی جل وعلا،" وَ اَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنۡتَہٰی ﴿ۙ۴۲﴾"[2](بیشك تمہارے رب ہی کی طر ف منتہٰی ہے۔ت)
عــــــہ۱:عجائب لطائف سے ہے کہ فقیر کے پاس ان احادیث سے تیس۳۰ خاصے جمع ہوئے کما مر(جیسا کہ گزرا۔ت)اوردو سے دس تك جو اعداد حدیثوں میں آئے انہیں جمع کئے تو تیس۳۰ ہی آتے ہیں ۱۲منہ۔
عــــــہ۲:حضرت والا قدس سرہ الماجد نے بھی النقاوۃ النقویۃ فی الخصائص النبویۃ میں ایك جملہ صالحہ ذکر فرمایا۔جزا الله علماء الامۃ خیر جزاء اٰمین ۱۲ منہ(الله تعالٰی علمائے امت کو بہترین جزاء عطافرمائے۔آمین۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع