30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
خلقا اکرم علی منک(وساق الحدیث الٰی ان قال)ظلّ عرشی فی القیامۃ علیك ممدود تاج الحمد علٰی رأسك معقود وقرنت اسمك مع اسمی فلااذکر فی موضع حتی تذکر معی۔و لقد خلقت الدنیا و اھلھا لاعرفھم کرامتك ومنزلتك عندی،ولولاك ماخلقت الدنیا[1]۔ |
نہ بنایا،قیامت میں میرے عرش کا سایہ تم پر گُسترد ہ،اورحمد کا تاج تمہارے سر پرآراستہ،تمہارا نام میں نے اپنے نام سے ملایا کہ کہیں میری یاد نہ ہو،جب تك تم میرے ساتھ یاد نہ کئے جاؤ اوربیشك میں نے دنیا واہل دنیا کو اس لئے بنایا کہ جو عزت ومنزلت تمہاری میرے نزدیك ہے ان پر ظاہر کروں، اگر تم نہ ہوتے میں دنیا کو نہ بناتا۔ |
وحی چہارم۴:دیلمی حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے راوی،حضور سید المرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اتانی جبریل فقال ان الله یقول لولا ك ماخلقت الجنۃ ولولاك ماخلقت النار[2]۔ |
میرے پاس جبریل نے حاضر ہوکر عرض کی الله تعالٰی فرماتا ہے اگر تم نہ ہوتے میں جنت کو نہ بناتا،اوراگر تم نہ ہوتے میں دوزخ کو نہ بناتا۔ |
یعنی آدم وعالَم سب تمہارے طفیلی ہیں،تم نہ ہوتے تو مطیع وعاصی کوئی نہ ہوتا،جنت ونارکس کیلئے ہوتیں،اورخود جنت ونار اجزائے عالم سے ہیں،جن پر تمہارے وجود کا پر توپڑا۔صلی الله تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم ؎
مقصود ذاتِ اُوست دگر جملگی طفیل منظور نور اوست وگرجملگی ظلام [3]
(مقصود ان کی ذات ہے باقی تمام طفیلی ہے،فقط انہی کانور دکھائی دیتاہے باقی سب تاریکیاں ہیں۔ت)
وحی پنجم۵:ابو نعیم حلیہ میں حضرت انس بن مالك رضی الله تعالٰی عنہ سے راوی،حضور سید المرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع