30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے راوی حضور سید المرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لما اقترف اٰدم الخطیئۃ قال رب اسئلك بحق محمد لما غفرت لی،قال وکیف عرفت محمدا قال لانك لما خلقتنی بیدك ونفخت فی من روحك رفعت رأسی فرأیت علی قوائم العرش مکتوبا لا الٰہ الا الله محمد رسول الله فعلمت انك لم تضف الٰی اسمك الا احب الخلق الیك قال صدقت یاٰدم ولو لامحمد ما خلقتك [2]وفی روایۃ عند الحاکم فقال الله تعالٰی صدقت یٰادم انہ لاحب الخلق الی اما اذا سئلتنی بحقہ |
یعنی آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے[1] اپنے رب سے عرض کی،اے رب میرے !صدقہ محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا میری مغفرت فرما۔رب العٰلمین نے فرمایا:تو نے محمد(صلی الله تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم)کو کیونکر پہچانا؟ عرض کی:جب تو نے مجھے اپنے دست قدرت سے بنایا اور مجھ میں اپنی روح ڈالی میں نے سراٹھایا تو عرش کے پایوں پر لاالٰہ الا الله محمد رسول الله لکھاپایا،جانا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ اسی کا نام ملایا ہے جو تجھے تمام مخلوق سے زیادہ پیارا ہے۔ الله تعالٰی نے فرمایا:اے آدم !تو نے سچ کہا بے شك وہ مجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے،اب کہ تو نے اس کے حق کا وسیلہ کر کے مجھ سے مانگا تو میں تیری مغفرت کرتاہوں،اور اگر محمد(صلی الله تعالٰی علیہ وسلم)نہ ہوتا تو |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) العلامۃ ابن امیر الحاج فی الحلیۃ والسبکی فی شفاء السقام اقول: والذی تحرر عندی انہ لاینزل عن درجۃ الحسن،والله تعالٰی اعلم ۱۲منہ۔ |
نے حلیۃ میں اورسبکی نے شفاء السقام میں اس کو برقرار رکھا۔ میں کہتا ہوں جو میرے ہاں ثابت ہے وہ یہ کہ وہ درجہ حسن سے کمتر نہیں،اورالله تعالٰی بہتر جانتاہے۔۱۲منہ(ت) |
[11] مطبع اہل سنّت وجماعت بریلی شریف سے شائع شدہ تجلی الیقین کے نسخہ جسے صدر الشریعہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے خود شائع کرایا تھااس کو سامنے رکھتے ہوئے یہاں کچھ تصحیح کی گئی ہے۔
[2] دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء فی تحدث رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بنعمۃ ربہ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۴۸۹،تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ علیہ السلام ۷۷۷داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۳۰۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع