30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خبر نہ ہوگی اورنہ ہی کوئی دیکھ رہا ہے۔آپ نے جوابًا عرض کیا :ابا جان ! جس کے حکم سے روزہ رکھا ہے وہ تو دیکھ رہا ہے۔یہ جواب سنتے ہی آنکھوں سے آنسوؤں کا تار بند ھ گیا اور آپ کو سینے سے لگایا،پیار کیااورکمرے سے باہر لے آئے۔سبحان الله !
آٹھویں سال میں قدم رکھا تو فن نحو کی شہرہ آفاق کتاب "ھدایۃ النحو "کی شرح لکھ ڈالی،اور دسویں سال ''مسلم الثبوت'' کی تحقیقی شرح لکھنے کی سعادت پائی۔اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ نے جملہ علوم دینیہ عقلیہ ونقلیہ کی تکمیل تیرہ سال دس ماہ کی عمر میں فرما کر ۱۴ شعبان المعظم ۱۲۸۶ھ/۱۹نومبر ۱۸۶۹ء بروز جمعرات فارغ التحصیل ہونے کا شرف حاصل کیا۔بعدہ اپنے والد ماجد کے ارشاد پر درس وتدریس اورمسند افتاء کو زینت بخشی۔بفضلہ تعالیٰ آپ کو علم سے خصوصی لگاؤ رہا اورخداداد ذہانت سے علوم وفنون مروجہ کا سراپابن گئے۔آپ نے اپنے سال فراغت کے دو تاریخی مادے تخریج فرمائے ''تعویذ'' اور''غفور''ان دونوں سے ۱۲۸۶ھ کے اعداد نکلتے ہیں۔
قوت حافظہ کا یہ عالم تھا کہ حضرت مولانا سید ایوب علی رضوی علیہ الرحمہ سے مروی ہے کہ ایك بار اعلٰیحضرت فاضل بریلوی نے فرمایا:بعض ناواقف حضرات میرے نام کے ساتھ ''حافظ'' بھی لکھ دیا کرتے ہیں حالانکہ میں اس منصب کا اہل نہیں ہوں،لیکن یہ ضروری ہے کہ اگر کوئی حافط صاحب کلام پا ك کا ایك پارہ پڑھ کر سنا دیا کرے تو وہ دو بارہ مجھ سے سن لے۔چناچہ طے پایا اور عشاء کے وضو فرمانے کے بعد جماعت سے قبل اس کیلئے نشست شروع کردی گئی اور آپ نے تیس دنوں میں تیسوں پارے زبانی سنادیئے،نیز فرمایا،الحمدلله! ہم نے کلام پاك ترتیب سے یاد کرلیا۔اور یہ اس لئے کہ بندگان خدا کا کہنا غلط نہ ہو۔ سبحان الله ! صداقت شعار بندوں کا کیا کہنا۔اور یہ مکمل حفظ القرآن کا وقت تخمینۃ سات گھنٹے بنتا ہے۔
بیان کرتے ہیں کہ امام محمد علیہ الرحمہ نے چھوٹی عمر میں سات دنوں میں قرآن کریم حفظ کرلیا تھا جبکہ امام شافعی اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہما الرحمہ نے تین تین ماہ کی مدت میں قرآن مجید حفظ کیا،نیز حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے بھی اتنی ہی مدت میں قرآن کریم کو یاد فرمالیاجب انہیں جہانگیر بادشاہ نے قلعہ گوالیار میں قید و بند کی صعوبتوں سے دو چار کر رکھا تھا۔
استاذ ی المکرم فقیہ اعظم علیہ الرحمہ مولانا الحاج ابو الخیر محمد نور الله نعیمی قادری اشرفی رحمہ الله تعالٰی بانی دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور،فرمایا کرتے تھے کہ امام بخاری کے حافظہ کے بعد اعلٰیحضرت فاضل بریلوی کے حافطہ کی مثال نہیں ملتی،آپ کی قوت حافظہ و اخذ لاجواب تھی۔سچ ہے ولی را ولی می شناسد و عالم را عالم می شناسد،نیز فتاوٰی رضویہ آپ کی قوت حافظہ پر شاہد و عادل ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع