30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طرح امام دارقطنی نے اس قول کی تصریح فرمائی،اوراس کے بیان میں
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) سمّاہ الله تعالٰی مقامًا محمودًا لامسجدًا فان لم ینف بہ امرالسجود فلم ذا ینفی امرالقعود قال الواحدی"واذا قیل السلطان بعث فلانافھم منہ انہ ارسلہ الی قوم لا صلح مھما تھم ولا یفھم منہ انہ اجلس مع نفسہ [1]۔ قال الزرقانی وھذا مردودبان ھذا عادۃ یجوز تخلفھا علٰی ان احوال الاٰخرۃ لایقاس علی احوال الدنیا[2] یبعثھم الله تعالٰی فی جمعھم عندہ لیحکم بینھم لا لیرسلھم الی قوم فجاز ان یکون ھذا البعث بالاجلاس لا للرسال مع ان الارسال کما یغایر الجلوس فکذا القیام عندہ ولکن الھوس یأتی بالعجائب والحل ان البعث من عندہ ھو الذی ذکرھا الواحدی والبعث من محل للحضور عندہ لاینافی |
نے مقام محمود رکھا ہے مسجد نہیں رکھا۔تو جب امر سجود اس کے منافی کیسے ہوگا؟ واحدی نے کہا جب کہا جائے کہ فلاں کو بادشاہ نے مبعوث کیا تو اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ بادشاہ نے اس قوم کی طرف بھیجا ہے کہ ان کی مہمات کی اصلاح کرے، یہ نہیں سمجھا جاتاکہ بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ بٹھالیا۔ زرقانی نے کہا یہ مردودہے کیونکہ ایك امر عادی ہے جس کے خلاف ہونا بھی جائز ہے۔اس کے علاوہ یہ کہ احوالِ آخرت کو احوال دنیا پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔الله تعالٰی سب کو مبعوث فرما کر سب کو ایك میدان میں جمع کریگا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے نہ کہ ان کو اصلاح کے لیے کسی قوم کے پاس بھیجے گا۔تو جائز ہے کہ یہ بعث بٹھانے کے ساتھ ہونہ کہ بھیجنے کے ساتھ باوجودیکہ ارسال جس طرح بیٹھنے کے مغایرہے اسی طرح اس کے پاس کھڑے رہنے کے بھی مغایر ہے لیکن جنون عیب وغریب امور کو لاتا ہے اوراس کا حل یہ ہے کہ جس بعث کو واحدی نے ذکر کیا ہے وہ ہے ''بعث من عندہ '' اپنے (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع