30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے نقل کیا۔من انکر ھذا القول فھو متھم [1]۔جو اس قول سے انکار کرے وہ متہم ہے۔
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) میمی لاسم مکان[2] اھ ای فیقوم مقام المفعول المطلق ای یبعثك بعثا محمودا۔ اقول:وبالله التوفیق علی ان الرافعۃ بعدالتواضع من تواضع لله رفعہ الله فالقعود انما یکون بعد مایقوم النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بین یدی ربہ تبارك وتعالٰی علی قدم الخدمۃ قدلك المکان مقام محمود ومقعد محمود وکلام الله سبحٰنہ وتعالٰی بما یقتصر علی بعض الشیئ کما فی قولہ تعالٰی" سُبْحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الۡاَقْصَا"[3]، وقدثبت فی الاحادیث انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یسجد بین یدی ربہ تبارك وتعالٰی ایامًا اسبوعا او اسبوعین ثم یرفع راسہ[4]،وانما |
میمی ہے نہ کہ ظرف مکان اھ۔یعنی یہ مفعول مطلق کے قائم مقام ہے اورمعنٰی یہ ہوگا کہ الله تعالٰی تجھے اٹھائے گا ایسا اٹھانا جو محمود ہوگا۔ اقول:(میں کہتاہوں)اور توفیق الله تعالٰی کی طرف سے۔ علاوہ ازیں رفعت تواضع کے بعد ہے،جو الله تعالٰی کے لیے عاجزی کرتا ہے الله تعالٰی اس کورفعت عطافرماتاہے۔ چنانچہ قعود الله تعالٰی کی بارگاہ میں نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے قدمِ خدمت پر قیامت کے بعد ہوگا تووہی مکان مقام محمود اورمقعد محمود ہوگا اور الله کا کلام بعض شے پر مقتصر ہے جیسا کہ الله تعالٰی کا ارشاد ہے سبحٰن الله الذی الخ(پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجدِ اقصٰی تک)اورتحقیق احادیث سے ثابت ہوچکا ہے کہ نبی اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الله تبارك و تعالٰی کی بارگاہ میں ایك ہفتہ یا دو ہفتے سجدہ ریز رہیں گے پھر سر اٹھائیں گے اس جگہ کا نام الله تعالٰی(باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع