30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب اپنی فکر میں،انہیں فکر عوالم۔سب زیر حکومت،وہ مالك وحاکم،۔بارگاہِ الٰہی میں سجدہ کرینگے۔ان کا رب انہیں فرمائے گا:یا محمد ارفع رأسك وقل تسمع وسل تعطہ واشفع تشفع[1]۔اے محمد!اپنا سراٹھاؤ اورعرض کرو کہ تمہاری عرض سنی جائے گی،اورمانگو کہ تمہیں عطاہوگا،اورشفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہے۔اس وقت اولین وآخرین میں حضور(صلی الله تعالٰی علیہ وسلم)کی حمد وثناء کا غلغلہ پڑ جائے گااوردوست،دشمن،موافق،مخالف،ہر شخص حضور(صلی الله تعالٰی علیہ وسلم)کی افضلیتِ کبرٰی وسیادت عظمٰی پر ایمان لائے گا۔والحمدلله رب العٰلمین ؎
مقام محمود ونامت محمد بہ نیساں مقامے ونامے کہ دارد[2]
آپ کا مقام محمود اورنام محمد ہے،ایسا مقام اورنام کون رکھتاہے۔ت)
امام محی السنۃ بغوی معالم التنزیل میں فرماتے ہیں:
|
عن عبدالله رضی الله تعالٰی عنہ قال ان الله عزّوجل اتخذ ابراھیم خلیلا وان صاحبکم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم خلیل الله واکرم الخلق علی الله ثم قرأ " عَسٰۤی اَنۡ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوۡدًا ﴿۷۹﴾"قال یجلسہ علی العرش[3]۔ |
یعنی عبدالله بن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ سے مروی بیشك الله عزوجل نے ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو خلیل بنایا۔اور بیشك تمہارے آقام محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے خلیل اور تمام خلق سے زیادہ اس کے نزدیك عزیز وجلیل ہیں۔پھر یہ آیت تلاوت کر کے فرمایا الله تعالٰی انہیں روز قیامت عرش پر بٹھائے گا۔ |
وعزا نحوہ فی المواھب [4]للثعلبی۔(اس کی مثل مواہب میں ثعلبی کی طرف منسوب ہے۔ت)امام عبدبن حمید وغیرہ حضرت مجاہد تلمیذ رشید حضرت حبرالامہ عبدالله بن عباس رضی الله تعالٰی عنہم سے اس آیت کی تفسیر میں راوی:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع