30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مَثْبُوۡرًا ﴿۱۰۲﴾ [1]۔ |
ہونے والا ہے۔ |
مگر حضور سید المرسلین افضل المحبوبین محمد رسول الله خاتم النبیین صلوات الله وسلامہ علیہ وعلی آلہ و اصحابہ اجمعین کی خدمت والا میں کفار نے جو زبان درازی کی ہے ملك السموات و الارض جل جلالہ خود متکفل جواب ہوا ہے،اور محبوب اکرم مطلوب اعظم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے آپ مدافعہ فرمایا ہے۔طرح طرح حضور کی تنزیہ و تبریت ارشاد فرمائی۔جابجا رفع الزام اعدائے ایام پر قسم یاد فرمائی،یہاں تك کہ غنی مغنی عزمجدہ نے ہر جواب خطاب سے حضور کو غنی کر دیا،اور الله تعالٰی کا جواب دینا حضور کے خود جواب دینے سے بدرجہا حضور کے لیے بہتر ہوا۔اور یہ وہ مرتبہ عظمٰی ہے کہ نہایت نہیں رکھتا۔ " ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیۡمِ ﴿۴﴾"[2](یہ الله کا فضل ہے جسے چاہے عطافرماتاہے اور الله بڑے فضل والا ہے۔ت)(۱)کفار نے کہا:
|
" یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡ نُزِّلَ عَلَیۡہِ الذِّکْرُ اِنَّکَ لَمَجْنُوۡنٌ ؕ﴿۶﴾"[3]۔ |
اے وہ جن پر قرآن اترا،بیشك تم مجنون ہو۔ |
حق جل وعلا نے فرمایا:
|
" نٓ وَالْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾ مَاۤ اَنۡتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوۡنٍ ۚ﴿۲﴾"[4] "وَ اِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیۡرَ مَمْنُوۡنٍ ۚ﴿۳﴾"[5]۔ |
قسم قلم اور نوشتہائے ملائك کی تو اپنے رب کے فضل سے ہر گز مجنون نہیں۔ اور بے شکتیرے لیے اجر بے پایا ہے۔ |
کہ تو ان دیوانوں کی بدزبانی پر صبر کرتا اور حلم وکرم سے پیش آتا ہے۔مجنون تو چلتی ہوا سے الجھا کرتے ہیں،تیرا سا حلم وصبر کوئی تمام عالم کے عقلاء میں تو بتادے۔
|
" وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ﴿۴﴾ "[6]۔ |
اور بے شك تو بڑے عظمت والے ادب تہذیب پر ہے۔ |
کہ ایك حلم وصبر کیا تیری خصلت ہے اس درجہ عظیم وباشوکت ہے کہ اخلاق عاقلان جہان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع