30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" لَاۤ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ ۙ﴿۱﴾"[1]۔ |
کہ ارشاد کرتا ہے مجھے قسم اس شہر کی۔(ت) |
شیخ محقق رحمہ الله تعالٰی مدارج میں فرماتے ہیں:
|
ایں لفظ در ظاہر نظر سخت مے در آید نسبت بجناب عزت چوں گویند کہ سو گندمے خورد بخاکپائے حضرت رسالت و نظر بحقیقت معنی صاف و پاك است کہ غبارے نیست برآں تحقیق ایں سخن آنست کہ سو گند خوردن حضرت رب العزت جل جلالہ بچیزے غیر ذات و صفات خود برائےاظہارِ شرف وفضیلت و تمیز آں چیز است نزد مردم و نسبت بایشاں تا بدانند کہ آں امر عظیم وشریف است،نہ آنکہ اعظم است نسبت بوئے تعالٰی الخ [2]۔ |
یہ لفظ ظاہری نظر میں الله تعالٰی رب العزت کی طرف نسبت کرنے میں سخت ہیں۔جب یوں کہتے ہیں کہ الله رب العزت حضرت رسالت مآب کی خاك پا کی قسم ارشاد فرماتا ہے اور نظر حقیقت میں معنی بالکل پاك و صاف ہے کہ اس پر غبار نہیں اس کی تحقیق یہ ہے کہ الله رب العزت کا اپنی ذات و صفات کے علاوہ کسی چیز کی قسم یاد فرمانا اس لیے ہوتا ہے کہ لوگوں کے نزدیك لوگوں کہ بنسبت اس چیز کا شرف،فضلیت اور ممتاز ہونا ظاہر ہو جائے تاکہ وہ جان لیں کہ یہ چیز عظمت و شرف والی ہے۔یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ چیز الله تعالٰی کی نسبت اعظم ہے الخ(ت) |
آیت ثامنہ(آٹھویں آیت):قرآن عظیم میں جا بجا حضرات انبیاء علیہم الصلواۃ والثناء سے کفار کی جاہلانہ جدال مذکور جس کے مطالعہ ظاہر کہ وہ اشقیاء طرح طرح سے حضرات انبیاء میں سخت کلامی و بیہودہ گوئی کرتے اور حضرات رسل علیہ الصلواۃ و السلام اپنے حلم و عظیم و فضل کریم کے لائق جواب دیتے۔سیدنا نوح علیہ الصلواۃ والسلام سے ان کی قوم نے کہا:
|
" اِنَّا لَنَرٰىکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶۰﴾ "[3]۔ |
بیشك ہم تمھیں کھلا گمراہ سمجھتے ہیں۔ |
فرمایا:
|
" یٰقَوْمِ لَیۡسَ بِیۡ ضَلٰلَۃٌ وَّ |
اے میری قوم !مجھے گمراہی سے کچھ علاقہ نہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع