30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ابو نعیم حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں راوی:
|
قال کانوا یقولون یا محمد یا اباالقاسم فنھٰھم الله عن ذٰلك اعظامًا لنبیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم، فقالوایا نبی الله ،یا رسول الله [1]۔ |
یعنی پہلے حضور کو یا محمد یا ابالقاسم کہا جاتا الله تعالٰی نے اپنے نبی کی تعظیم کو اس سے نہی فرمائی،جب سے صحابہ کرام یا نبی الله ،یا رسول الله کہا کرتے۔ |
بیہقی امام علقمہ وامام اسود اورابو نعیم امام حسن بصری وامام سعید بن جبیر سے تفسیر کریمہ مذکورہ میں راوی:
|
لاتقولوا یا محمد ولٰکن قولوا یا رسول الله ،یا نبی الله [2]۔ |
یعنی الله تعالٰی فرماتاہے:یا محمد نہ کہو بَلکہ یا نبی الله ،یارسول الله کہو۔ |
اسی طرح امام قتادہ تلمیذ انس بن مالك سے روایت کی،رضی الله تعالٰی عنہم اجمعین۔ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو نام لے کر نداکرنی حرام ہے۔
اورواقعی محل انصاف ہے جسے اس کا مالك ومولٰی تبارك وتعالٰی نام لے کر نہ پکارے غلام کی کیا مجال کہ راہِ ادب سے تجاوز کرے بَلکہ امام زین الدین مراغی وغیرہ محققین نے فرمایا:گریہ لفظ کسی دعاء میں وارد ہوجو خود نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے تعلیم فرمائی جیسے دعائے یا محمد انی توجھت بك الی ربی[3]۔اے محمد!میں آپ کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا۔ (ت) تاہم اس کی جگہ یارسول الله ،یا نبی الله چاہیے،حالانکہ الفاظ دعاء میں حتی الوسع تغییر نہیں کی جاتی۔کما یدل علیہ حدیث نبیك الذی ارسلت ورسولك
[1] دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الاول عالم الکتب بیروت الجزء الاول ص۷،الدرالمنثور تحت الآیۃ ۲۴ /۶۳ داراحیاء التراث العربی بیروت ۶ /۲۱۱
[2] تفسیر الحسن البصری تحت الآیۃ ۲۴ /۶۳ المکتبۃ التجاریۃ مکۃ المکرمۃ ۲ /۱۶۴،الدرالمنثوربحوالہ عبدبن حمید عن سعید بن جبیر والحسن تحت الآیۃ ۲۴ /۶۳ داراحیاء التراث العربی بیروت ۶ /۲۱۱
[3] المستدرك للحاکم کتاب صلٰوۃ التطوع دعاء ردالبصر دارالفکر بیروت ۱ /۳۱۳ ۵۱۹ ۵۲۶،سنن ابن ماجۃ کتاب اقامۃ الصلٰوۃ باب ماجاء فی حاجۃ الصلٰوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع