30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مَّنۡ کَلَّمَ اللہُ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍؕ"[1]۔ |
کچھ ان میں وہ ہیں جن سے خد ا نے کلام کیا،اور ان میں بعض کو درجوں بُلند فرمایا۔ |
ائمہ فرماتے ہیں یہاں اس بعض سے حضور سید المرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مراد ہیں کہ انہیں سب انبیاء پر رفعت وعظمت بخشی۔
|
کما نص علیہ البغوی [2] والبیضاوی[3]والنسفی [4]و السیوطی والقسطلانی والزرقانی والشامی والحلبی و غیرھم واقتصار الجلالین [5] دلیل انہ اصح الاقوال لا لتزام ذٰلك فی الجلالین۔ |
جیسا کہ اس پر نص فرمائی ہے بغوی،بیضاوی،نسفی،سیوطی، قسطلانی،زرقانی،شامی اور حلبی وغیرہ نے،اورجلالین میں اس پر اقتصار اس بات کی دلیل ہے کہ یہی اصح ہے کیونکہ جلالین میں اس کا التزام کیا گیا ہے(کہ اصح پر ہی اقتصار کیا جاتاہے۔) (ت) |
اوریوں مبہم ذکر فرمانے میں حضور کے ظہور افضلیت وشہرتِ سیادت کی طرف اشارہ تامہ ہے،یعنی یہ وہ ہیں کہ نام لو یا نہ لو انہی کی طرف ذہن جائے گا،اورکوئی دوسرا خیال نہ آئے گا۔صلی الله تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم۔فقیر کہتاہے اہل محبت جانتے ہیں کہ ابہامِ تام میں کیا لطف ومزہ ہے۔ ع
اے گُل بتو خر سند تو بوئے کسے داری
(اے پھول۱ تجھ پر شادمانی ہے کہ تو کسی کی خوشبو رکھتاہے۔ت)
مژدہ اے دل کی مسیحا نفسے مے آید کہ زانفاسخوشش بوئے کسے می آید
(اے دل !خوشخبری ہو کہ مسیحا آتا ہے،جس کے عمدہ سانسوں سے کسی کوخوشبوآتی ہے۔ت)
[1] القرآ ن الکریم ۲ /۲۵۳
[2] معالم التنزیل(تفسیر البغوی)تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۷۷
[3] انوارالتنزیل(تفسیر البیضاوی)تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳ دارالفکر بیروت ۱ /۵۴۹ ۵۵۰
[4] مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳ دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۱۲۷
[5] تفسیر جلالین تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳ اصح المطابع دہلی ص۳۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع