30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں حدیثِ میسرہ کی نسبت فرمایا:سندہ،قوی [1](اس کی سند قوی ہے۔ت)
آدم ستر وتن بآب وگِل داشت کوحکم بملك جان جان ودل داشت
(آدم علیہ السلام ابھی گارے کا مجسمہ تھے کہ آنحضرت کی حکومت دل وجان کی مملکت میں تھی۔ت)
اسی لئے اکابر علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جس کا خدا خالق ہے محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔شیخ محقق رحمۃ الله تعالٰی علیہ مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں:
|
چو بود خلق آنحضرت صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اعظم الاخلاق بعث کر دخدائے تعالٰی اورابسوئے کافہ ناس ومقصور نہ گردانید رسالت اورابرناس بَلکہ عام گردانید جن وانس را،بَلکہ برجن و انس نیز مقسور نہ گردانید تا آنکہ عام شد تمامہ عالمین را،پس ہر کہ الله تعالٰی پروردگار اوست محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم رسول اُوست[2]۔ |
چونکہ آنحضرت صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی پیدائش تمام مخلوق سے اعظم ہے۔لہذا الله تعالٰی نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔آپ کی رسالت کو انسانوں میں منحصر نہیں فرمایا بَلکہ جن وانس کے لیے عام کردیا بَلکہ جن و انس میں بھی انحصار نہیں فرمایا یہاں تك کہ آپ کی رسالت تمام جہانوں کے لئے عام ہے۔چنانچہ الله تعالٰی جس کا پروردگار ہے محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔(ت) |
اب تو یہ دلیل اور بھی زیادہ عظیم وجلیل ہوگئی کہ ثابت ہوا جو نسبت انبیائے سابقین علیہم الصلٰوۃ والتسلیم سے خاص ایك بستی کے لوگوں کو ہوئی وہ نسبت اس سرکار عرش وقار سے ہرذرّہ مخلوق وہرفردماسواالله یہاں تك کہ خود حضرات انبیاء ومرسلین کو ہے،اوررسول کا اپنی امت سے افضل ہونابدیہی،والحمدلله رب العٰلمین(اورسب تعریفیں الله تعالٰی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت) اب تو یہ دلیل اوربھی زیادہ عظیم وجلیل ہوگئی کہ ثابت ہوا جو نسبت انبیائے سابقین علیہم الصلٰوۃ والتسلیم سے خاص ایك بستی کے لوگوں کوہوتی ہے وہ نسبت اس سرکار عرش وقار سے ہر ذرئہ مخلوق وہر فرد ماسوا الله یہاں تك کہ خود حضرات انبیاء ومرسلین کو ہے،اوررسول کا اپنی امت سے افضل ہونا بدیہی،والحمدلله رب العٰلمین(اورسب تعریفیں الله تعالٰی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)
|
آیت رابعہ:" تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍۘ مِنْہُمۡ |
چوتھی آیت:الله تعالٰی نے فرمایا:یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں بعض کو بعض پرفضیلت دی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع