30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیکل اوّل میں جواہر زواہر آیات قرآنیہ
|
آیت اولٰی:قال تبارك وتعالی:" وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیۡثٰقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنۡصُرُنَّہٗؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیۡؕ قَالُوۡۤا اَقْرَرْنَاؕ قَالَ فَاشْہَدُوۡا وَاَنَا مَعَکُمۡ مِّنَ الشّٰہِدِیۡنَ﴿۸۱﴾ فَمَنۡ تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوۡنَ﴿۸۲﴾ "[1]۔ |
پہلی آیت:الله تبارك وتعالٰی نے فرمایا،اوریاد کراے محبوب ! جب خد انے عہد لیا پیغمبروں سے کہ جو میں تم کو کتاب و حکمت دوں،پھر تمہارے پاس آئے رسول تصدیق فرماتا اس کی جو تمہارے ساتھ ہے تو تم ضرور ہی اس پر ایمان لانا، اور بہت ضروراس کی مدد کرنا ۔پھر فرمایا کیا تم نے اقرار کیا، اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ۔سب انبیاء نے عرض کی کہ ہم ایمان لائے ۔فرمایا تو ایك دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اورمیں بھی تمہارے ساتھ گواہوں سے ہوں ۔اب جو اس کے بعد پھرے گا تووہی لوگ بے حکم ہیں۔ |
امام اجل ابو جعفر طبری وغیرہ محدثین اس آیت کی تفسیر میں حضرت مولی المسلمین امیر المومنین جناب مولٰی علی کرم الله تعالٰی وجہہ الکریم سے راوی:
|
لم یبعث الله نبیا من اٰدم فمن بعدہ الااخذ علیہ الھعد فی محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لئن بعث و ھو حی لیؤمنن بہ ولینصرنّہ ویاخذ العھد بذٰلك علی قومہٖ[2]۔ |
یعنی الله تعالٰی نے آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے لے کر آخر تك جتنے انبیاء بھیجے سب سے محمد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بارے میں عہد لیا گیا کہ اگریہ اس نبی کی زندگی میں مبعوث ہوتو وہ ان پرایمان لائے اور ان کی مددفرمائے اوراپنی امت سے اس مضمون کا عہد لے ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع