30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من امتہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الٰی آخرہ [1]۔ |
امتی کا کیا حال ہوگا الخ۔(ت) |
اس پر ایك شخص کہتاہے کہ یہ کیونکر صحیح ہوسکتاہے جبکہ قرآن شریف میں الله جل شانہ خبردیتاہے ابولہب کی نسبت " مَاۤ اَغْنٰی عَنْہُ مَالُہٗ وَ مَا کَسَبَ ؕ﴿۲﴾"[2] کہ نہ نفع دیا اس کو ا س کے مال اوراس کے فعل نے ۔پس مال لونڈی اورفعل اس کا آزاد کرنا۔ورنہ خواب خیال کی باتیں آیات قرآنیہ کے مقابل میں کیونکر صحیح ہوں گی،پس اس کی تطبیق کیونکر صحیح ہوگی ۔بیان فرمائیے ۔
الجواب:
یہ روایت صحیح بخاری شریف میں ہے،ائمہ نے اسے مقبول رکھا اور اس میں قرآن عظیم کی اصلًا مخالفت نہیں ۔قطع نظر اس سے یہ اغنانہ ہوا اس کا سبب حضور پرنور رحمت عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے علاقہ ۔حضور کی ولادت کریمہ پر خوشی کہ یہ نہ اس کا مال ہے نہ اس کا کسب وفعل اختیاری ۔یہ تو کیا ایسا فائدہ ہے حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے علاقہ ابو طالب کو ایسا کام آیا کہ سراپا آگ میں غرق تھے ۔حضور انورصلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے پایاب آگ میں کھینچ لیا کہ اب صر ف تلووں میں آگ ہے حالانکہ کفار کے حق میں اصل حکم یہ ہے کہ:
|
" لَا یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلَا ہُمْ یُنۡظَرُوۡنَ﴿۱۶۲﴾"[3]۔ |
نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے نہ کوئی ان کی مدد کرے ۔ |
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں عباس رضی الله تعالٰی عنہ سے ہے رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
نعم ھو فی ضحضاح من نار ولو لاانا لکان فی الدرك الاسفل من النار[4] ۔ وفی روایۃ وجدتہ فی غمرات من النار |
ہاں وہ تھوڑی سے آگ میں ہے،اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوتا ۔ اورایك روایت میں ہے کہ میں نے اس کو جہنم کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع