30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول:وان کان الزاعم ان یزعم ان الزوال بمعنی الحرکۃ الاینیۃ ولکن کبراء الصحابۃ رضی الله تعالٰی عنہم اعرف منا بتفسیر القراٰن فلا یجوز الاستدراك علیھم عند من نورالله بصیرتہ جعلنا الله منھم بحرمتھم عندہ اٰمین۔ |
میں کہتاہوں کہ کوئی شخص یہ گمان کرسکتا ہے کہ زوال تو حرکت اینیہ کو کہتے ہیں لیکن بزرگ ترین صحابہ ہم سے زیادہ قرآن کی تفسیر کے جاننے والے تھے کہ انکے کہے ہوئے کو (رضی الله تعالٰی عنہم)وہ شخص رد نہیں کرے گا جسے خدا نے نوربصیرت دیا۔الله ان کے صدقے میں ہمیں بھی انہیں کے ساتھ کرے آمین ۔ |
مسئلہ ۲۳: ایضًا
سبع سیارہ کا بیان کس آیت میں ہے:
الجواب:
|
قال الله تعالٰی" وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَالنُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِہٖ ؕ"[1]۔ |
الله تعالٰی فرماتاہے:سورج،چاند اورستارے سب اسی کے حکم کے فرمانبردارہیں۔ |
اور " وَکُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ"[2]سے بھی اس طرف اشارہ ہے کہ اس میں سات حرف ہیں ۔اپنے نفس پر دائر اور یزین کا بیان تو بکثرت فرمایا،خاص متحیرات خمسہ کا ذکر "فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ ﴿ۙ۱۵﴾ الْجَوَارِ الْکُنَّسِ ۙ﴿۱۶﴾"[3]۔میں ہے،میں قسم یاد فرماتاہوں دُبك جانے والوں،چلنے والوں کی ۔یہ انکے وقوف،استقامت ورجعت کا بیان ہے کہ سیدھے چلتے ہیں،پھر ٹھہر جاتے ہیں،پھر پیچھے ہٹتے ہیں، پھر ٹھہرتے ہیں،پھر سیدھے ہوجاتے ہیں ۔اس لئے ان کو متحیرہ کہتے ہیں۔ابن ابی حاتم تفسیر امیر المومنین مولٰی علی کرم الله تعالٰی وجہہ الکریم سے فلااقسم بالخنس کی تفسیر میں راوی:
|
قال خمسۃ انجم زحل وعطارد والمشتری،وبھرام و الزھرۃ لیس فی الکواکب شیئ یقطع المجرۃ غیرھا[4]۔ |
فرمایا:وہ پانچ ستارے ہیں:زحل،عطارد،مشتری،مریخ، زہرہ، کوئی ستارہ ان کے سوا کہکشاں کو قطع نہیں کرتا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع