30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اجمال الاٰیۃ واتضح معنا ھا وتعین لفظ النحل دون غیرہ ولکنہ لم یصح فبقی اللفظ مجملا ومع ذٰلك فالمختار ان یقال اعوذبالله من الشیطٰن الرجیم لموا فقۃ لفظ الاٰیۃ وان کان مجملا لورودالحدیث بہ علی الجملۃ وان لم یصح لاحتمال الصحۃ [1]۔والله سبحنہ وتعالٰی اعلم |
کہ اگر یہ روایت صحیح ہوتی کہ زیادتی کو ترك کیا تو آیت قرآنی کا اجمال ختم ہوجاتااور اس کے معنی واضح ہوجاتے اور سورہ نحل میں وارد الفاظ ہی متعین ہوجاتے لیکن جب حدیث صحیح نہیں تو آیت مجمل ہی رہی ۔اس کے باوجود راجح اعوذبالله من الشیطٰن الرجیم ہی ہے کیونکہ یہ قرآنی الفاظ کے موافق بھی ہے اورحدیث بھی ان الفاظ کے ساتھ وارد ہے،تو اگرروایت صحیح ثابت نہ ہو احتمال صحت تو ہے ۔ |
مسئلہ ۲۱: از دھرم پور ضلع ببُلند شہر مرسلہ سید پرورش علی صاحب ۸شعبان ۱۳۲۳ھ
|
چہ می فرمایند عالمان کتاب مبین کہ الف ذاقا،واستبقاالباب اوردعوا الله اور قالا الحمد خواندہ شود یانہ ؟ بینوا توجروا۔ |
کتا ب مبین کے علماء کیافرماتے ہیں کہ ذاقا، واستبقا الباب، دعوا الله اور قالا الحمد کا الف پڑھا جائے گا یا نہیں ؟ بیان فرمایئے اجر دئے جاؤگے ۔(ت) |
الجواب:
|
درسجاوندی ایں چہار فتحہ رابقدر خفیف کہ تا الف تام نہ رسد اشباع فرمودہ است،سجاوندی کتاب معتبر ست ودر دیگر کتب از تصریح بداں نیست خلافش نیز نیست وجہش مواجہ است کہ تمیز تثنیہ از مفرد است پس عمل بداں محذورے ندارد ونظیر ش فصل خفیف در قال الله تعالٰی" عَلٰی مَا |
سجاوندی میں ان چار فتحوں میں ہلکا سا اشباع فرمایا گیا ہے تاکہ الف تام کی حد تك نہ پہنچے،سجاوندی معتبر کتاب ہے ۔دوسری کتابوں میں اگرچہ اس کی تصریح نہیں ہے مگر مخالفت بھی نہیں ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے تثنیہ مفرد سے ممتاز ہوجائے گا ۔لہذا اس پر عمل کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع