30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضور صلی الله علیہ وسلم کی نسبت کہا،حالانکہ وہ حدیث ضعیف ہے اورضعیف کی بہ صیغہ جزم نسبت روا نہیں ۔پھران الفاظ کو بھی جائز رکھا حالانکہ بعد ممانعت رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم جواز کی طرف راہ اصلًا نہیں،ببَلکہ جواز وہی ہے کہ منع ثابت نہ ہو ۔امام شاطبی بعد کلام مذکور فرماتے ہیں:
|
وقد ذکروا لفظ الرسول فلم یزد ولو صح ھذا النقل لم یبق مجملا[1]۔ |
حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے الفاظ میں استعاذہ میں اضافہ نہیں ہے،اگریہ روایت صحیح ہوتی تو حکم قرآنی مجمل نہ ہوتا۔ |
شرح علامہ ابن قاصع میں ہے:
|
اشارالی قول ابن مسعود رضی ا لله تعالٰی عنہ قرأت علی رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فقلت اعوذ بالله السمیع العلیم من الشیطٰن الرجیم فقال لی قل یا ابن ام عبد اعوذبالله من الشیطٰن الرجیم و روی نافع عن ابن جبیر ابن مطعم عن ابیہ رضی الله تعالٰی عنہما عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم انہ کان یقول قبل القراءۃ اعوذبالله من الشیطٰن الرجیم وکلا الحدیثین ضعیف واشاربقولہ ولو صح ھذاالنقل الی عدم صحۃ الحدیثین وقولہ لم یبق مجملا ای لو صح نقل ترك الزیادۃ لذھب |
مصنف نے اپنے قول سے حضرت ابن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ کی اسی حدیث کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے حضور تلاوت کی تو اعوذبالله السمیع العلیم من الشطٰن الرجیم کہا تو مجھ سے آپ نے فرمایا:اے ام عبد کے لڑکے !صرف اعوذبالله من الشیطٰن الرجیم کہو،اور نافع نے جبیر ابن مطعم سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیاکہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم تلاوت سے قبل اعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم پڑھتے تھے اوریہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں ۔اورمصنف نے اپنے قول ولو صح ھذا النقل سے دونوں ہی حدیثوں کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے اور مصنف کے قول ''مجمل نہ رہتی'' کا مطلب یہ ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع