30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیہ وسلم وھو اصدق القائلین ''فاذا قرأت القراٰن فاستعذ بالله من الشیطٰن الرجیم ''واما السنۃ فما رواہ نافع ابن جبیر ابن مطعم عن ابیہ رضی الله تعالٰی عنہما عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم انہ استعاذ قبل قرأۃ القراٰن بھٰذا اللفظ بعینہ وبذٰلك قرأت وبہ اٰخذ[1]۔ |
والد سے وہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم تلاوت قرآن پاك سے قبل خاص انہیں الفاظ میں اعوذبالله پڑھتے ۔یہ حدیث سے ثبوت ہوا۔امام ابو عمرو فرماتے ہیں میں ایسا ہی پڑھتاہوں اوریہی میرا مذہب ہے ۔ |
غیث النفع میں ہے:
|
اما صیغتھا فالمختار عند جمیع القراء اعوذ بالله من الشیطن الرجیم وکلھم یجیز غیر ھذہ الصیغۃ من الصیغ الوارد ۃ نحو اعوذبالله السمیع العلیم من الشیطٰن الرجیم واعوذبالله العظیم من الشیطٰن الرجیم واعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم انہ ھو السمیع العلیم واعوذبالله السمیع العلیم من الشیطٰن الرجیم[2]۔ |
صیغہ استعاذہ کے لیے تمام قاریوں کا مختار اورپسندیدہ لفظ اعوذ بالله من الشیطان الرجیم ہے،اس کے باوجود ان دوسروے صیغوں کو بھی سبھی جائز قرار دیتے ہیں جو اس باب میں وارد ہیں جیسے اعوذبالله السمیع العلیم من الشیطٰن الرجیم وغیرہ ۔الخ |
حرز الامانی امام محمد قاسم شاطبی قدس سرہ میں ہے: ؎
|
اذاماارادت الدھر تقرأفاستعذ جھارا من الشیطٰن بالله مسجلا علی مااتی فی النحل یسرًا وان تزد لربك تنزیھا فلست مجھلا[3] |
زمانہ میں جب بھی قرآن شریف پڑھنا چاہو تو اعوذبالله علی الاعلان پڑھو،یہ سب قاریوں کا مسلك ہے ۔جیسا کہ سورہ نحل شریف میں وارد جو آسان ہے اور اگر الله تعالٰی کی کچھ تنزیہات بھی بڑھا دوتوتم جاہل نہ ہوگے ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع