30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورحرف اول نساء کو اگرچہ لفظًانہ بتایا مگر رسمًا بحذف لکھا جس سے ظاہر باقی پانچ میں اثبات ہے اوریہی قول مرتع ع قیٰمًا و ز ابتداء نساء ع آخر مائدہ قیٰمًا داں [1]کا مفاد ہے ۔اوراس کی وجہ واضح ہے کہ امام نافع اورامام اجل ابن عامر نے حرف نساء "جَعَلَ اللہُ لَکُمْ قِیٰمًا"[2]اورابن عامر نے حرف مائدہ "قِیٰمًا لِّلنَّاسِ"[3]کو بے الف پڑھا فی التیسیر،باقی سب میں اثباتِ الف ہے باتفاق قراء سبعہ والرسم یتبع اللفظ لاسیما وھو فعّال کما مر ۔والله تعالٰی اعلم۔
(۴)مصحف کریم میں والدٍ،والدین،والدیہ،والدیک،والدی،والدۃ،والدتی،والدتك سب بالف بعد واؤ مرسوم ہیں۔ اوریہی مقتضائے قاعدہ فاعل ہے حتی کہ والدات بآنکہ جمع مونث سالم ہے،حذف الف میں مختلف فیہ ہے ۔والدٰان میں حذف الف تثنیہ توحسب قاعدہ مطردہ ضرور ہے،حذف اول کی کوئی وجہ ظاہر نہیں اورعبارت خلاصۃ الرسوم اس نسخہ سقیمہ میں یوں مرسوم ''الولدان ہردو بحذف الف تثنیہ مکتوب است بعد از واو ودال ہمہ جا''عبارت نے تو یہ حذف الف تثنیہ بتایا ہے اورہر دو سے مراد دونوں لفظ الولدٰن کہ ا س آیۃ کریمہ میں واقع ہیں اوربعد از واو الف تثنیہ کے کوئی معنی نہیں ۔ظاہرا لفظ واؤ زیادت قلم ناسخ سے ہے ۔والله تعالٰی اعلم۔
(۵)فعالٰی کا قاعدہ مرتع سے گزرا اوربعینہ یہی تخصص موضعین حج مفاد مقنع ہے ۔محذوفات نافع بیان کر کے فرماتے ہیں:
|
فھذا جمیع ما فی روایۃ عبدالله بن عیسٰی عن قالون عن نافع مما حذفت منہ الالف الرسم وحدثنا ابو الحسن بن غلبون قرأہ منی علیہ حدثنا ابی حدثنا محمد ابن جعفرحدثنا اسمٰعیل ابن اسحٰق القاضی القالون عن نافع |
یہ سب عبدالله بن عیسٰی کی روایت قالون سے ہے ۔اور انہوں نے نافع سے روایت کی جہاں جہاں سے رسم میں الف محذوف ہوا ابوالحسن ابن غلبون نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں ان پر پڑھ رہا تھا انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے ان سے محمد ابن جعفر نے ان سے اسمٰعیل بن اسحٰق قاضی نے انہوں نے قالون سے اورانہوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع