30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کذٰلك رسمواکل ماکان علی وزن فعال وفعال بفتح الفاء وکسرھا وعلی وزن فاعل نحو ظالم وفعال نحو خوار وفعلان نحوبنیان وفعلان نحو رضوان و کذٰلك المیعاد والمیقات والمیزان وما اشبھہ مما الفہ زائد البناء وکذٰلك ان کانت منقلبۃ من یاء او واؤ حیث وقعت [1] اھ باختصار الامثلۃ۔ |
تحریر کیا ہر وہ لحظہ جو فعال اور فِعال کے وزن پر ہویا فاعل کے وزن پر ہو جیسے ظالم یا فعال کے وزن پر ہو جیسے خوار اورفعلان کے وزن پر ہو جیسے بنیان اور فعلان کے وزن پر ہوجیسے رضوان،اورایسے ہی میعاد،میقات،میزان اوراس کے مشابہ الفاظ جس میں الف زائد بناء کے لیے ہو۔ایسے ہی یا اورواو سے بدلاہوا بھی جہاں کہیں ہو مثالوں میں اختصار کردیاہے ۔ |
یہ مبارك کلام مفید عام کل سے ابتداء اورحیث وقعت پر انتہاہوکر تاکید الافادہ عموم لایا،اگرچہ بحکم:
|
ما من عام الاوقد خص منہ البعض حتی ھذہ القضیۃ لنفسھا بمثل قولہ سبحٰنہ "وَہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ﴿۲۹﴾٪" [2]۔ |
کوئی عام نہیں کہ اس سے بعض کی تخصیص نہ ہو خاص اس قضیہ میں بھی الله تعالٰی کے قول ھو بکل شیئ علیم کی طرح جیسا کہ عقل سلیم پر ظاہر ہے ۔ |
بعض مستثنیات رکھتاہے،جنہیں خود امام ممدوح نے مقنع میں مواضع متفرقہ پر افادہ فرمایا ہے،مثل عٰلم الغیب ولبلٰغ وبلغاوالضلٰل ومن خلٰلہ وظلٰلہ وغیرھا[3]۔
ولہذا''مرتع الغزلان فی رسم خط القرآن'' میں فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع