30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی بعضھا بغیر الالف [1]۔اھ مختصرًا۔ |
پایا۔انتہٰی مختصرا۔ |
اس کے سوا جمع مذکر سالم قلیل الدور عدیم المد کے لئے کوئی ضابطہ نہیں اور خاص خاص الفاظ میں اختلاف مصاحف ثابت ۔
مقطع میں ہے:
|
فی بعضھا فارھین وفی بعضھا فرھین بغیر الف و کذٰلك حاذرون وحٰذرون[2]۔ |
بعض مصاحف میں فارھین باالف اوربعض بغیر الف ۔اسی طرح حاذرون بھی دونوں طرح تحریر پایاگیا۔ |
اسی طرح دخان وطور ومطففین فاکھین اورلیس کے فاکھون سب کو فرمایا کہ فی بعضھا بالف وفی بعضھا بغیر الف تو مطلقًا ایك حکم کلی اثبات خواہ حذف کا لگا دینا ہرگز صحیح نہیں،ببَلکہ ہر کلمہ میں رجوع بنقل پھر بحالت اتفاق اس کا اتباع لازم،اوربحالت اختلاف اکثرواشہر کی تقلید کی جائے اورتساوی ہوتو حذف واثبات میں اختیار ہے ۔اوراحسن یہ کہ جہاں اختلاف قراء ت بھی ہو جیسے فٰکھین اورفاکھین وہاں حذف معمول بہ رکھیں لیحتمل القراءتین ۔اوراگر نقل اصلًا نہ ملے تو ناچار رجوع بہ اصل ضرور،اوروہ اثبات ہے کہ اصل کتابت میں اتباع ہجاء ہے ۔
علامہ علم الدین سخاوی شرح عقلیہ میں زیر قول مصنف قدس سرہ ع وبالذی غافر عن بعضہ الف فرماتے ہیں:
|
اصل ماجھل اصلہ ان یکتب بالالف علی ماینطق[3] ۔ والله تعالٰی اعلم ۔ |
جس کی اصل نہ معلوم ہو تو قاعدہ یہ ہے کہ جس طرح باالف پڑھا جاتا ہے اسی طرح لکھا جائے ۔ |
(۲)امام الاقاصی والادانی فی الرسم القرآنی ابو عمرو دانی فرماتے ہیں:
|
قال الغازی بن قیس العذاب والعقاب والحساب و البیان والغفار والجبار والساعۃ والنھار بالالف یعنی فی المصاحف وذٰلك علی اللفظ قال ابو عمرو |
غازی بن قیس فرماتے ہیں کہ عذاب،عقاب،حساب، بیان،غفار،جبار،ساعۃ،نہار مصاحف میں الف کے ساتھ مرقوم ہے ۔جیسا کہ لفظ ہے ۔ابو عمرو فرماتے ہیں یونہی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع