30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر لکھتے ہیں:
|
باوجود اس منع وتعلیم الفاظ دیگر ہم مروی شدہ اند،پس تلفظ تعوّذبآں الفاظ ہم جائز است اگرچہ مختار نیست،انتہی عبارتہ بقدر ضرورت [1]۔ |
اس منع وتعلیم کے باوجود کچھ دوسرے الفاظ بھی مروی ہیں، چنانچہ ان الفاظ کے ساتھ بھی تعوذجائز ہے اگرچہ مختار نہیں ہے۔تحفہ نذریہ کی عبارت ختم ہوئی جس قدر ضرورت تھی۔(ت) |
اس کے باب میں آپ کا کیا حکم ہے ؟
الجواب :
(۱)یہ علم سمع ہے نہ قیاس ۔کلمات علمائے کرام سے دو ضابطے ملتے ہیں:
اول:مطردہ کہ ہر جمع مذکر سالم کثیر الدورمحذوف الالف ہے جبکہ اس الف پر مد نہ ہو۔
دوم:اکثری یہ کہ الف پرمد ہویعنی اس کے بعد ہمزہ یا حرف مشدد آئے تو ثابت الالف ہے مگر ذوات الہمزہ میں حذف بھی بکثرت پایاگیا ہے ۔اورجمع مونث سالم تو مطلق محذوف الالف والالفین ہے اگرچہ قلیل الدور ہو،اگرچہ الف ممدود ہومگر گنتی کے حروف جیسے سورہ شورٰی میں روضٰت الجنّٰت،یونس میں اٰیاتنا بیّنٰت،اسی میں مکر فی اٰیاتنا،حٰم سجدہ میں سمٰوٰت،فاطر میں علٰی بینات علی الخلاف الٰی غیر ذلك من حروف قلائل ۔امام عمرو دانی رحمۃ الله علیہ مقنع میں فرماتے ہیں:
|
اتفقوا علی حذف الالف من جمع السالم الکثیر الدور من المذکر والمونث جمیعا الصٰبرین و الصٰدقین و القٰنتین والشیٰطین والظٰلمون و السٰحرون والطیبٰت و الخیبثٰت والمتصدقٰت و الثیبٰت والغرفٰت وماکان مثلہ ۔فان جاء بعد الالف ھمزۃ او حرف مضعف نحو السائلین والقائمین |
تمام لوگوں نے جمع مذکر ومونث سالم کثیر الدور سے الف کے حذف کرنے پر اتفاق کیا،جیسے صٰبرین ،صٰدقین، قٰنتین، شیٰطین ظالمون، سٰحرون، طیبٰت، خبیثٰت، متصدقٰت، ثیبٰت،تئبٰت،غرفٰت اور جو اس کے مثل ہو اور الف کے بعد ہمزہ یا حرف مشدد آئے جیسے سائلین، قائلین، ظانین، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع