30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تینوں کو منشی اشرف علی اور مولوی ہادی علی صاحب نے اپنے مکتوب مصاحف میں محذوف الالف لکھا ہے،اورعام مصاحف میں خاص سورہ نساء میں بدوں الف اورباقی دونوں کو مع الالف،خلاصۃ الرسوم اوررسالہ نورِ سرمدی سے قول اول ثابت ہے مگر مرتع الغزلان میں لکھا ہے: ع
گیر از حج دوجا سکٰرٰی یاد[1]
یعنی محذوفات میں دو کا ذکر کیا تیسرے سے کچھ تعرض نہ کیا۔
(۶)علامہ ابو عمرو الدانی ارشادکرتے ہیں:
|
کذٰلك سؤۃ وسوءٰتکم وسیئ وسیئت وبریؤن وھنیئا مریئا وبریئا وشبھہ[2]۔ |
یعنی ان سب کا ہمزہ بدوں مرکز ہے لیکن کل مصاحف ہندی میں سواٰتکم وغیرہ الف سے مرقوم ہیں بالاتفاق کسی نے اس میں خلاف بھی بیان نہیں کیا۔ |
(۷)"وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ ؕ"[3]۔سورہ ہود میں قراء ت مفتوح المیم کو کتاب تیسیر میں نافع اورابن عامر کے نام سے لکھاہے، اورخلاصۃ الرسوم میں مرقوم ہے:
|
بکسر میم ست بقراء ت غیر سوسی[4] |
سوسی کے غیر کی قراءۃ میں میم کے کسرہ کے ساتھ ہے ۔(ت) |
(۸)اعوذبالله کے باب میں روایت کتاب تحفہ نذریہ مؤلفہ قاری عبدالرحمن پانی پتی یہ ہے کہ:
|
اعوذبالله من الشیطٰن الرجیم مختار جمیع قراء است [5]۔ |
اعوذبالله من الشیطٰن الرجیم تمام قراء کا مختارہے ۔(ت) |
آگے بیان کرتے ہیں کہ:
|
اگرکسے لفظ دیگر درتعوّذ کفت آنحضرت صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ازاں لفظ منع فرمود[6]۔ |
اگرکسی نے کوئی دوسرا لفظ تعوّذ میں کہا تو حضور انور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اس لفظ سے منع فرمایا ہے ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع